جعلی خبروں کی مہم کا خرچ سالانہ چار لاکھ ڈالر

ویب سائٹس تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption کسی بھی صحافی کا اعتبار ختم کرنے لیے 50000 ڈالر میں اس کی خبروں کو غلط ثابت کرنے والی پوسٹس کو لائکس، ری ٹویٹس اور کمنٹس کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے

ایک رپورٹ کے مطابق سال بھر کے لیے جعلی خبروں کی ایک مہم چلانے میں چار لاکھ ڈالر کا خرچ آتا ہے۔

دی ٹرینڈ مائیکرو رپورٹ میں مختلف ویب سائٹس پر غلط معلومات پر مبنی مہم چلانے کی قیمتوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔

اس فہرست میں جعلی سوشل میڈیا پروفائلز، غلط خبریں بنانا اور انھیں فرضی فالوورز کے ذریعے پھیلانے کی قیمتیں بتائی گئی ںہیں۔

جعلی خبریں کیسے پکڑی جائیں؟

صدارتی انتخاب میں جعلی خبریں، فیس بک میں چھان بین کا آغاز

جعلی خبروں کے اثرات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کے بعد گوگل اور فیس بک نے ان خبروں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کا وعدہ کیا ہے۔

اس رپورٹ میں روسی، چینی، مشرقِ وسطیٰ اور انگریزی زبان کی ویب سائٹس شامل ہیں جو سوشل میڈیا اور سرچ انجنز اور نیوز آرگنائزیشن میں ہر طرح کی ساز باز کی پیش کش کرتی ہیں۔

کئی خدمات میں اس بات کی مکمل تفصیل موجود ہے کہ کس طرح سیاسی بحث کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور کن طریقوں سے میڈیا میں ساز باز کی جا سکتی ہے۔

پیش کی جانے والی خدمات

  • شخصیات کو مشہور بنانا
  • مظاہرے اور بدامنی پیدا کرنا
  • صحافیوں کا اعتبار ختم کرنا
  • سیاسی جماعتوں یا انتخابات پر دباؤ ڈالنا

کسی بھی صحافی کا اعتبار ختم کرنے لیے 50 ہزار ڈالر میں اس کی خبروں کو غلط ثابت کرنے والی پوسٹس کو لائکس، ری ٹویٹس اور کمنٹس کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔

اسی طرح ٹوئٹر پر آنے والی خبروں کو ہزاروں بوٹس میں گم کر دیا جاتا ہے جن میں بدنیتی پر مبنی تبصرے یا خبر پر تنقید شامل ہوتی ہے۔

ٹرینڈ مائیکرو کے ترجمان بھرت مستری کا کہنا تھا ’سوشل میڈیا پر ساز باز کرنا یا دوسرے آن لائن پلیٹ فارمز پر اثرانداز ہونا اور عوامی رائے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا کبھی بھی آسان نہیں تھا۔‘

’اس مہم کی کامیابی کی بڑی وجہ ایسی خبریں، رپورٹس اور مباحثہ بنانا ہے جو صارفین کی کمزوری ہوں۔‘

ٹرینڈ مائیکرو کا کہنا ہے کہ جعلی خبروں کے اثر کو روکنے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ صارفین کو آگاہ کیا جائے اور ایسے ٹولز دیے جائیں جن کی مدد سے وہ ناقابلِ بھروسہ ذرائع اور من گھڑت مہم کی شناخت کر سکیں۔

اس کے لیے اچھے اشاروں میں فوٹو شاپ کی گئی تصاویر، اکسانے والی شہ سرخیاں،ویب سائٹس کے قانونی میڈیا گروپس کے ناموں جیسے نام اور خبروں میں مصدقہ تفصیلات کی کمی شامل ہیں۔

ٹرینڈ مائیکرو کا مزید کہنا تھا لوگوں کو وسیع تر ذرائع سے خبر حاصل کرنی چاہییں تاہم اس کا کہنا تھا ’جو خبریں آپ کے نظریات کے مطابق نہیں ہوتی یہ ضروری نہیں کہ وہ جعلی ہوں۔‘

اسی بارے میں