برطانیہ: ’سائبر حملہ شمالی کوریا سے کیا گیا‘

برطانیہ تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانوی انٹیلیجنس ایجنسی جی سی ایچ کیو کے ماتحت کام کرنے والی این سی ایس سی کا خیال ہے کہ اس حملے کا کوڈ تیار کرنے کے لیے ماضی میں اس گروپ کے حملوں کے مقابلے میں زیادہ افراد یا ذرائع کا استعمال کیا گیا۔

برطانیہ میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ برطانوی ادارہ صحت نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے نظام کے چند حصوں کو معذور کر دینے والا سائبر حملہ شمالی کوریا میں موجود ہیکروں نے کیا۔

99 ممالک غیرمعمولی سائبر حملے کی زد میں

اس حملے کی تفتیش برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سنٹر (این سی ایس سی) کی قیادت میں کی گئی۔

سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ این سی ایس سی کا ماننا ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار لازارس نامی ایک گروپ ہے۔ اس گروپ کے بارے میں امریکی حکام کو بھی متنبہ کیا گیا۔

ماننا جاتا ہے کہ 2014 میں اسی گروپ نے سونی پکچرز کو نشانہ بنایا تھا۔

سونی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب کمپنی شمالی کوریا کے بارے میں بنائی گئی مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ ریلیز کرنے والی تھی۔

اس کے علاوہ اس گروپ کو بینکوں پر حملوں میں بھی ملوث ماننا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WEBROOT
Image caption اس حملے میں کمپیوٹر پر موجود فائلوں تک رسائی روک دی جاتی تھی اور صارفین سے ان تک رسائی کے لیے تعاوان کی رقم مانگی جاتی تھی۔

این ایچ ایس پر حملہ

گذشتہ مئی میں دنیا بھر میں ہزاروں کمپیوٹروں پر ’وانا کرائی‘ نامی رینسم ویئر کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا جس میں کمپیوٹر پر موجود فائلوں تک رسائی روک دی جاتی تھی اور صارفین سے ان تک رسائی کے لیے تعاوان کی رقم مانگی جاتی تھی۔ برطانیہ میں این ایچ ایس کا نظام اس حملے میں بری طرح متاثر ہوا تھا۔

اس حملے میں این ایچ ایس یا برطانیہ کو مخصوص طور پر نشانہ نہیں بنایا گیا تھا اور ممکن ہے کہ یہ صرف ایک پیسے بنانے کی ترکیب ہو جو کہ اندازوں سے زیادہ بڑھ گئی۔ اس بات کا اشارہ اس سے ملتا ہے کہ حملہ آوروں نے ابھی تک تعاوان کی کوئی بھی رقم حاصل نہیں کی ہے۔

یہ گروپ شمالی کوریا میں قیام پذیر ماننا جاتا ہے اور شمالی کوریا کی قیادت کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت مبہم ہے۔

حملے کی تفتیش

اس حملے کے آغاز کے بعد جلد ہی دنیا بھر میں سائبر سکیورٹی کے نجی ماہرین نے اس وائرس کے کوڈ کا جائزہ لینا شروع کیا۔

دفاعی مصنوعات بنانے والی برطانوی کمپبنی بی اے ای کی سائبر سکیورٹی ٹیم کے سربراہ ایڈریئن نیش نے اس کوڈ کا جائزہ لیتے ہوئے ماضی میں لازارس کی جانب سے تیار کردہ کوڈ کے ساتھ مماثلت کی نشاندہی کی۔

تاہم برطانوی انٹیلیجنس ایجنسی جی سی ایچ کیو کے ماتحت کام کرنے والی این سی ایس سی کا جائزہ ہے کہ یہ کوڈ بنانے میں زیادہ افراد یا ذرائع کا استعمال کیا گیا۔

اس گروپ کے شمالی کوریا سے منسلک ہونے کی وجہ سے کچھ مشکل سوالات سامنے آئیں کہ ایسے رویے کے بارے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں