امریکی شہر فینکس میں درجہ حرارت 49 ڈگری، درجنوں پروازیں منسوخ

فینکس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی ریاست ایروزونا کے شہر فینکس میں حکام کا کہنا ہے کہ 40 سے زیادہ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمی بہت زیادہ ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ فینکس میں درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

یہ درجہ حرارت چند جہازوں کی پرواز کے لیے مجوزہ موزوں درجہ حرارت سے زیادہ ہے۔

’2016 تاریخ کا گرم ترین سال بن گیا‘

امریکی ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو گرمی کے عروج کے اوقات میں سکائی ہاربر ایئر پورٹ سے اڑنے والی درجنوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

فینکس میں مقامی میڈیا کے مطابق گرمی کے باعث چھوٹے جہاز بومبارڈیئر سی آر جے کی پروازیں منسوخ ہوئی ہیں کیونکہ اس جہاز کی پرواز کے لیے مجوزہ درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

منسوخ کی جانے والی پروازوں نے دوپہر تین اور شام چھ بجے کے درمیان اڑنا تھا۔

جہاز کیوں نہیں پرواز کر سکتے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت زیادہ ہونے سے ہوا کی کم کثافت ہوتی ہے جس کے باعث جہاز کی اڑان متاثر ہوتی ہے۔ یعنی کہ اڑان کے لیے جہاز کے انجن پر زیادہ زور پڑتا ہے۔

گذشتہ سال انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ موسمی تبدیلی ہوائی جہازوں کی اڑان بھرنے کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ اور ساؤتھ امریکہ میں چند بلند علاقوں میں پروازوں کے اوقات شام یا رات کو ہوتے ہیں جب درجہ حرارت کچھ کم ہوتا ہے۔

تاہم بڑے جہاز جیسے کہ بوئنگ 747 اور ایئر بس کی پرواز کے لیے مجوزہ درجہ حرارت زیادہ ہے جس کے باعث فینکس میں گرمی ہونے کے باوجود ان جہازوں کے شیڈول متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

ایریزونا ریپبلک اخبار کا کہنا ہے کہ 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جہاز پرواز کر سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں