اردو لغتِ کبیر اب آن لائن اور موبائل پر

اردو لغت تصویر کے کاپی رائٹ Urdu Lughat Board

'اردو لغت تاریخی اصول پر' کا موبائل اور آن لائن ورژن لانچ کر دیا گیا ہے۔

یہ عظیم لغت 22 جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں دو لاکھ 64 ہزار الفاظ شامل ہیں۔ اس لغت کی وسعت اور ہمہ گیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں صرف ایک لفظ 'دل' اور اس کے متعلقات 112 صفحات پر محیط ہیں۔

یہ ڈکشنری اردو لغت بورڈ کی کاوش ہے۔ اس خصوصی ادارے کا قیام بابائے اردو مولوی عبدالحق کی کاوشوں سے 1958 میں ہوا تھا اور اس کا ماڈل اوکسفرڈ انگلش ڈکشنری کی طرز پر تیار کیا گیا تھا جس کے تحت اردو کی ایک ایسی جامع لغت تیار کی جانی تھی جو 'محض لفظوں اور معنوں کا انبار نہیں بلکہ ہمارے تاریخی ، تہذیبی سفر کو آئینہ بھی کرتی ہے۔'

لغت تیار کرنے کی یہ مہم 52 برس کے بعد 2007 میں اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب اس کی 22ویں اور آخری جلد شائع ہوئی۔

تاہم اس کے بعد سے بڑے سائز کی ایک ایک ہزار صفحوں پر مشتمل اس لغت کی 22 جلدوں سے استفادہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ اسی دوران چند جلدیں آؤٹ آف پرنٹ بھی ہو گئیں چنانچہ یہ بھاری بھرکم لغت عام آدمی کی دسترس سے مزید دور ہو گئی۔

اردو ڈکشنری بورڈ کے سربراہ عقیل عباس جعفری کہتے ہیں کہ 'اب آن لائن ورژن اور ایپ تیار ہونے سے یہ ضخیم دستاویز ہر کسی کی پہنچ میں آ گئی ہے۔'

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ لغت کو ڈیجیٹائز کرنے کا کام اس سال فروری میں شروع کیا گیا تھا اور صرف چار مہینوں کی ڈیڈ لائن کے اندر اندر 20 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل یہ لغت عوام کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔

سرکاری محکموں کی عمومی کارکردگی دیکھتے ہوئے یہ کام خاصا حیرت انگیز لگتا ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ جلدی کے باعث کچھ اغلاط بھی در آئی ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ 'سہولت' کے تحت دشواری کی بجائے دشوری لکھا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Urdu Lughat Board
Image caption 22 جلدوں، 20 ہزار صفحات اور دو لاکھ 64 ہزار الفاظ پر مبنی لغتِ کبیر کی تیاری میں 52 برس لگے۔ اس نوعیت کا کام اب تک صرف انگریزی اور جرمن میں ہوا ہے

اسی طرح سوشل میڈیا پر دوسرے دوستوں نے بھی ٹائٹپنگ کی کئی اغلاط کی جانب توجہ دلائی ہے۔ عقیل عباس جعفری نے اس بارے میں کہا کہ لغت کی پروف ریڈنگ کا کام ابھی جاری ہے اور اس ضمن میں ہم نے لوگوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اغلاط کی نشاندہی کریں تاکہ انھیں جلد سے جلد دور کیا جا سکے۔

ہم نے لغت کے بارے میں فیڈ بیک لینے کے لیے جن لوگوں سے بات کی ان کی اکثریت نے کہا کہ لغت بہت سست رفتار ہے اور ایک لفظ ڈھونڈتے بعض اوقات بہت دیر لگ جاتی ہے۔

اس کے علاوہ لغت صرف فونیٹک کی بورڈ کو سپورٹ کرتی ہے، جس کی وجہ سے ان لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں جو دوسرے کی بورڈز کے عادی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aqeel Abbas Jari
Image caption اردو لغت بورڈ کے مدیرِ اعلیٰ عقیل عباس جعفری نے لغت کو برق رفتاری سے آن لائن منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا

ماہرِ زبان اور لغات کے مدون رفاقت راضی نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام تر خامیوں اور محدودات کے باوجود یہ حیرت انگیز کام ہے جس کا تمام تر سہرہ اس کے مدیر اعلیٰ کو جاتا ہے جنھوں نے اس قدر قلیل مدت یہ لغت آن لائن کر کے سب کو ششدر کر دیا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'یہ کام رکنا نہیں چاہیے اور اس امر کی ضرورت ہے کہ لغت میں زبان میں شامل ہونے والے نئے الفاظ بھی شامل کیے جانے چاہییں، تاہم اس مقصد کے لیے خاصی ادارتی چھان پھٹک کی ضرورت ہے۔'

ڈیجیٹل لغت میں ایک اور خامی ہے کہ فی الحال یہ صرف اینڈروئڈ پر دستیاب ہے۔ عقیل عباس جعفری نے کہا کہ 'ہم نے ایپ بنا کر ایپل ایپ سٹور اور اینڈروئڈ پلے سٹور پر ایک ساتھ بھیجی تھیں لیکن ایپل کمپنی کے طریقۂ کار کے مطابق وہ ہر ایپ کا تفصیلی جائزہ لے کر اسے جاری کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس میں دیر لگ رہی ہے۔ اس لیے اس آئی فون کی ایپ میں جو تاخیر ہو رہی ہے وہ ہماری جانب سے نہیں بلکہ ایپل کی طرف سے ہے۔'

عقیل عباس جعفری کہتے ہیں کہ اردو ڈکشنری بورڈ اس وقت کئی اور منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان میں سرِ فہرست اردو کی پہلی صوتی لغت کی تیاری ہے۔ اس انوکھی لغت میں نہ صرف الفاظ کا تلفظ بلکہ ان کے معانی بھی سنے جا سکیں گے۔

اس کے علاوہ اردو لغت بورڈ دو جلدوں پر مبنی مختصر لغت بھی تیار کر رہا ہے، جب کہ ایک اور منصوبے کے تحت اردو لغت کی تیاری کی کام آنے والی سینکڑوں کتابوں کو بھی آن لائن کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں