’خبریں غلط ہیں، میں خلا میں نہیں جا رہا ہوں‘

یار جان تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption یار جان عبدالصمد کا تعلق بلوچستان سے ہے

کیمبرج یونیورسٹی کے محقق اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سائنسدان یار جان عبدالصمد کے لیے ان کے ساتھیوں کی قبل از وقت گرمجوشی نے انھیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔

انھیں سوشل میڈیا پر مبارک باد ملنے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ان کی خلا میں جانے کی ’جھوٹی‘ خبر اور ان کی سی وی بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

چاند پر قدم رکھنے والا آخری انسان چل بسا

'مجھے خلا میں کھٹکھٹانے کی آواز آئی'

پیگی وٹسن خلا میں جانے والی معمر ترین خاتون بن گئیں

پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل یار جان عبدالصمد سے متعلق سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ یورپی خلائی ایجنسی کے ایک پروگرام کے لیے ان کا خلائی سفر کے لیے انتخاب ہوا ہے۔ اس طرح وہ پہلے پاکستانی ہیں جو خلا میں جائیں گے۔

اگرچہ اس سے قبل نمیرہ سلیم نامی ایک خاتون خلائی سفر کے لیے اپنی تربیت کا آخری مرحلہ ایس ٹی ایس 400 سمیولیٹر کے ذریعہ مکمل کر چکی ہیں اور اس طرح وہ پہلی پاکستانی خلا نورد بن رہی ہیں۔ مردوں میں یقیناً وہ پہلے پاکستانی مرد ہوتے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق یار جان عبدالصمد نے خلائی سفر کے لیے منتخب ہونے سے متعلق خبروں کو ٹوئٹر پر ہی اپنے ایک بیان میں غیر تصدیق شدہ، نامکمل اور قبل از وقت قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAMAD/FACEBOOK

انھوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ خبر آدھی تو درست ہے تاہم اسے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'وہ خلا کے ایک سفر کے لیے جا سکتے ہیں تاہم ابھی انھیں بعض ٹیسٹ پاس کرنے ہیں۔'

انھوں نے بی بی سی اردو کو بدھ کو بھیجے گئے ایک پیغام میں واضح کر دیا کہ وہ خلا میں نہیں جا رہے ہیں۔

'براہ مہربانی نوٹ کریں کہ ہم کیمبرج میں ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو خلا سے متعلق ہیں جس کی وجہ سے ہم خلا پر کام کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر خلا جیسے حالات پیدا کریں گے جہاں تجربات کیے جائیں گے۔ اس میں خلا میں جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔'

یار جان عبدالصمد نے کہا ہے کہ ان کے بعض دوستوں نے سوشل میڈیا پر ان کی 'تربیتی پروگرام میں شرکت' سے متعلق خبروں کو غلط انداز میں لیا ہے جو ان کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔

یار جان بلوچ پیشے کے اعتبار سے میٹریل انجینیئر ہیں۔ اپنے ٹوئٹر کے تعارف میں وہ لکھتے ہیں کہ وہ معاشرے کی مدد اور 'درست مقاصد' کے حصول میں 'درست افراد' کی ہر قسم کی مدد کرتے ہیں۔

عبدالصمد کے تازہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ہر ٹویٹ یا پوسٹ درست نہیں ہوتی اور اکثر کسی وجہ سے بات کہیں سے کہیں پہنچا دی جاتی ہے۔

عبدالصمد اب چاہتے ہیں کہ ان کے خیرخواہ اس بات سے آگاہ ہو جائیں کہ وہ خلا میں نہیں جا رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں