سوشلستان: ’تیسری جنگِ عظیم ٹیکنالوجی کے باعث ہو گی‘

علی بابا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین کا علی بابا گروپ جو دنیا بھر میں چھوٹی پیمانے پر کاروبار کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے

سوشلستان میں کوئٹہ دھماکے کے بارے میں کوئٹہ کا ٹرینڈ سب سے اوپر ہے جس کے بعد لیلۃ القدر کا ٹرینڈ ہے اور اس کے بعد کلبھوشن جادھو اور ہمیشہ کی طرح ٹوئٹر نے پاکستان کے ایک روایتی دن کو تین ٹرینڈز میں پیش کر دیا ہے۔ مگر ہم آج پاکستان سے ہٹ کر خلیج فارس میں جاری بحران کی بات کرتے ہیں۔

خلیج کا تنازع صرف سرحدوں کا نہیں

خلیجی ممالک کی جانب سے قطر کے خلاف پابندیوں اور جارحانہ خارجہ پالیسی صرف بیانات اور سرحدوں کی بندش تک محدود نہیں۔

جہاں قطر کی فضائی کمپنی کی پروازوں پر اس کا اثر پڑا ہے وہیں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا پر ایک علیحدہ محاذ کھلا ہوا ہے۔

17 جون کو قطری چینل الجزیرہ کے عربی چینل کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے خلاف ایک منظم مہم کے تحت کارروائی شروع ہوئی اور پھر چینل کا اکاؤنٹ بند کر دیا گیا۔

بے شک اس پر بات کرنے والے بہت سے لوگ نہیں تھے نہ ہی یہ ہیڈ لائنز میں آیا مگر اس سے ایک چیز واضح ہوئی کہ خیلج میں جاری سرد جنگ میں الیکٹرانک میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے۔

اور اس جنگ میں آلات میں ہیکنگ سے لے کر سائبر حملے تک شامل ہیں جیسا کہ الجزیرہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر حملے۔

الجزیرہ کے ایک کروڑ دس لاکھ فالورز ہیں اور اس کے اکاؤنٹ کو بند کیا جانا بہت حیرت کی بات تھی تاہم کچھ دیر میں اکاؤنٹ کو واپس بحال کر دیا گیا۔

دراصل اس اکاؤنٹ کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی تھی جس میں اس کے خلاف ’ابیوز‘ یعنی ضوابط کی خلاف ورزی کی درخواستوں کی بھر مار کی گئی تھی۔

اس صورت میں ٹوئٹر کے پاس اس اکاؤنٹ کو بند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

یہ ہتھیار سوشل میڈیا کی دنیا میں بہت کارگر ہے جس کے تحت لوگ کسی اکاؤنٹ کے خلاف ’ابیوز‘ کے آپشن کو استعمال کر کے اسے بند کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مگر اس بارے میں چینی کمپنی علی بابا کے چیئرمین جیک ما کا بیان بہت اہمیت کا حامل ہے جنھوں نے گذشتہ دنوں کہا کہ ’نئی ٹیکنالوجی صرف ملازمتوں کے لیے ہی خطرہ نہیں ہے۔‘

ان کا اشارہ انسان کی جانب سے ٹیکنالوجی پر انحصار بہت زیادہ ہونے کی جانب تھا جس حوالے سے انھوں نے کہا ’ٹیکنالوجی میں پہلے انقلاب کے نتیجے میں پہلی جنگِ عظیم ہوئی، دوسرے انقلاب کے نتیجے میں دوسری جنگِ عظیم اور ان دنوں ہم تیسرے ٹیکنالوجیکل انقلاب سے گزر رہےہیں۔‘

اور پھر انھوں نے کہا کہ ’تیسرا ٹیکنالوجیکل انقلاب تیسری جنگِ عظیم کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ جہاں تجارت ختم ہوتی ہے وہیں جنگ شروع ہوتی ہے۔‘

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ WAKIL KOHSAR
Image caption افغان انڈیا کوریڈور کے آغاز کے موقع پر افغان کارکن کابل کے ہوائی اڈے پر 19 جون کو سازوسامان کارگو طیارے پر لاد رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کراچی کے ساحلِ سمندر پر چھوڑے جانے والے کچرے کے درمیان میں سے گزرنے والی بچی۔ یہ سب کچرا کہیں سے تو آتا ہو گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں