’اے ٹی ایم‘ 50 سال کی ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پہلی ایے ٹی ایم مشین بارکیلیز کی مدد سے لندن میں نصب کی گئی تھی

50 برس پہلے 27 جون سنہ 1967 میں دنیا کی پہلی 'آٹومیٹڈ ٹیلر مشین' یعنی اے ٹی ایم لندن کے علاقے این فيلڈ میں باركلیز بینک کی ایک شاخ میں لگائی گئی تھی۔

اے ٹی ایم کی آج گولڈن جوبلی ہے اور اس موقع پر بینک نے اس پہلی مشین کو سونے کی مشین میں تبدیل کر دیا ہے۔

دنیا کی بلند ترین ترین اے ٹی ایم

ایڈز کی ادویات کے لیے اے ٹی ایم جیسی مشین

بینک آف انگلینڈ کے چیف کیشیئر وکٹوریہ كلیلینڈ نے اے ٹی ایم کے 50 سال مکمل ہونے پر کہا ہے کہ ابھی عشروں تک لوگوں کے لیے کیش کی ضرورت برقرار رہے گی۔

وکٹوریہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب کاغذ کے نوٹوں اور سکّوں کے استعمال کا چلن کم ہو رہا ہے لیکن مستقبل میں بینکوں کے لیے ان کی اہمیت برقرار رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پہلی اے ٹی ایم مشین کو اب سونے میں تبدیل کر دیا گیا ہے

انھوں نے کہا کہ آج بھی برطانیہ میں 94 فیصد لوگ کیش یعنی نقدی کا ستعمال کرتے ہیں۔

وکٹوریہ كلیلینڈ کا کہنا ہے کہ پیسوں کے لین دین میں تقریبا نصف سے زیادہ صورتوں میں نقدی کا استعمال کیا جاتا ہے اور کسی بھی دکان کے لیے یہ بہت اہم ہوتا ہے۔

مال ویئر: اے ٹی ایم مشینیں پیسے اگلنے لگیں

اے ٹی ایم کے ذریعے پانی کا حصول

باركلے بینک میں 'کسٹمر ایكسپيریئنس' شعبے کے سربراہ راحیل احمد کہتے ہیں: 'حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل بینکنگ اور کارڈ کے ذریعہ پیسوں کی ادائیگی کا رواج بڑھا ہے، لیکن اس کے باوجود روزمرہ کی زندگی میں کیش اب بھی بہت ضروری ہے، چاہے وہ راشن خریدنےکے لیے یا پھر کافی لینے کے لیے ہو۔'

وہ کہتے ہیں: 'ہمیں خوشی ہے کہ تاریخ کی سب سے پہلی کیش مشین بنانے میں باركلیز کا کردارتھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Unknown
Image caption باركلیز بینک اور سکاٹش سرمایہ کار جان شیفرڈ بیرن کی کوششوں سے پہلے اے ٹی ایم کے لگانے سے متعلق ایک معاہدہ ہوا تھا

1967 میں باركلیز بینک اور سکاٹش سرمایہ کار جان شیفرڈ بیرن کی کوششوں سے پہلے اے ٹی ایم کے لگانے سے متعلق ایک معاہدہ ہوا تھا۔

جان شیفرڈ بیرن نے 2007 میں اس سے متعلق بات کرتے ہوئے بی بی سی سے کہا تھا: 'میں سوچ رہا تھا کہ برطانیہ یا پھر دنیا کے کسی اور کونے میں مجھے میرا خود کا پیسہ پانے کا کوئی تو طریقہ ہو گا۔ میں چاکلیٹ دینے والی مشین کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ بس اس میں چاکلیٹ کی بجائے پیسہ ہو۔'

سب سے پہلے نصب کی جانے والی ایسی بعض اے ٹی ایم مشینیں کامیاب ثابت نہیں ہوئی تھیں۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر زيورخ میں لگائی گئی ایسی ہی ایک مشین میں ایک پراسرار خرابی کا پتہ چلا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پاس سے گزرنے والی دو ٹرام لائنز کی تاریں اس مشین کے کام کو متاثر کر رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آج کے برطانیہ میں تقریبا 70 ہزار اے ٹی ایم مشینیں ہیں اور 17.6 کروڑ اے ٹی ایم کارڈز ہیں جن ذریعہ کبھی بھی لوگ اپنا پیسہ بینک سے نکال سکتے ہیں۔

آج کے دور میں بینک اے ٹی ایم کو ایک ایسی مشین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو بینک کے تقریبا سارے کام کرنے کی اہل ہو۔

اے ٹی ایم کے ڈیویلپر این سی آر کا کہنا ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بینک کے اندر ملازم جو فرائض انجام دیتے ہیں اس میں سے لین دین سمیت 80 فیصد کام ایسے ہیں جو ایک اے ٹی ایم مشین پر کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں