یورپی کمیشن کا گوگل پر دو ارب 70 کروڑ ڈالر کا جرمانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Google

یورپیئن کمیشن نے ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرچ کے نتائج میں اپنی شاپنگ سروس کی تشہیر کرنے پر دو ارب 70 کروڑ ڈالر کا جرمانہ کیا ہے۔

گوگل پر یہ جرمانہ اس کی مختلف اشیا کی قیمت کے موازنے کی سروس پر کیا گیا ہے۔

مارکیٹ میں مساقبت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی کمپنی پر یورپیئن کمیشن کی جانب سے کیا جانا والا یہ سب سے بڑا جرمانہ ہے۔

جرمانے کے ساتھ ساتھ گوگل کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگلے 90 دنوں میں مارکیٹ میں مسابقت کی فضا قائم کرے ورنہ مزید جرمانے کے لیے تیار ہو جائے۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔

اگر گوگل کاروبار کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے میں ناکام ہوتا ہے تو اسے اپنی ہی کمپنی ’ایلفابیٹ‘ کی دنیا بھر میں روزانہ کی اوسط کمائی کے برابر ادائگیاں کرنی پڑیں گی۔

کمپنی کی حالیہ کمائی کی بنیاد پر دیکھا جائے تو یہ رقم ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر یومیہ بنتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EUROPEAN COMMISSION

یورپی یونین کے مسابقتی کمیشن کی سربراہ مارگریتھ ویسٹاگر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’جو گوگل نے کیا ہے وہ یورپی یونین کے اینٹی ٹرسٹ قوانین کے خلاف ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس طرح سے گوگل نے دیگر کمپنیوں کو مقابلے اور جدت لانے کا مکمل موقع حاصل کرنے نہیں دیا، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے کمپنیوں کے درمیان مقابلے کے ذریعے یورپی گاہکوں کو فائدہ نہیں مل سکا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے ایک مثال قائم ہوگی کہ وہ آئندہ گوگل میپس، پروازوں کی قیمتوں کے نتائج اور مقامی کاروباروں کی فہرستوں کے حوالے سے آنے والی شکایات سے کیسے نمٹ سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Google

گوگل کے ترجمان نے اس کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’جب آپ آن لائن شاپنگ کے لیے آتے ہیں تو آپ چاہتے ہیں کے مطلوبہ مصنوعات جلد اور آسانی سے مل جائیں۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’ اور اشتہار دینے والی کمپنیاں ویسی ہی مصنوعات کی تشہیر کرنا چاہتی ہیں۔ اسی لیے گوگل شاپنگ سروس اشتہار شائع کرتی ہے، اپنے صارفین کو ہزاروں ایڈورٹائزرز سے جوڑتی ہے، وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، لیکن فائدہ مند انداز میں۔‘

انھو ںے مزید کہا کہ ’ہم احترام کے ساتھ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہم یورپی کمیشن کے اس فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور پھر اپیل کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں