’خواتین کا جنسی رویہ ثقافتی اقدار پر زیادہ منحصر‘

جنسیت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

1999 میں آنے والی فلم 'امریکن پائے' کی مثال سے اگر بات کہنی ہو اور آپ یہ جاننا چاہتے ہوں کہ کسی خاتون کے کتنے سیكشول پارٹنر ہیں؟ تو خواتین کے جواب کو تین سے ضرب کر لیجیے۔

اس کے برعکس مردوں کے سیكشول پارٹنر کی بات ہو تو مرد جو تعداد بتائیں اس تعداد کے دو حصے کر دیں۔

’75 فیصد عرب مرد اب بھی قدامت پرست‘

’سیکس ڈول‘ جو بات بھی کر سکتی ہے

’سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے؟‘

’دمے سے جنسی زندگی متاثر ہو سکتی ہے‘

لیکن اس معاملے میں فلم سے ذرا الگ ہٹ کر بات کرتے ہیں۔ سنہ 1859 میں جب چارلس ڈارون کے اصولوں نے بتایا تھا کہ مرد حیاتیاتی طور پر بے صبرے ہوتے ہیں جبکہ خواتین قدرتی طور پر مقدس جنسی تعلقات کو پسند کرتی ہیں۔

اگرچہ وقت کے ساتھ رسم و رواج کافی بدل چکے ہیں لیکن اب بھی روایتاً مردوں کو جنسی طور پر بے قابو بتایا جاتا ہے اور خواتین کو اس بارے میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سائنسی امور کی صحافی انگیلا سانی نے جنسی امور کے ان تصورات کو سائنس کے معیار پر پرکھنے کی کوشش کی ہے۔

سانی نے بی بی سی سے کہا: ' گذشتہ 30-40 سالوں میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ صحیح تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے۔

جنس سے متعلق تمام طرح کے نظریات تصورات اور روایات کی بنیاد پر تھے اور یہ پہلے سائنس اور ثبوتوں کی بنیاد پر نہیں ہوتے تھے۔'

سانی کے مطابق جو سائنسی طریقہ ہے: 'اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ خواتین بھی وقتی سیکس کے لیے اوپن ہوتی ہیں۔ کیا وہ اپنے ساتھی کے انتخاب کے حوالے سے محتاط رہتی ہیں۔۔۔ جی ہاں، لیکن اس میں بھی وہ کم اوپن نہیں ہوتی ہیں۔'

ڈارون کا پرانا اصول ایک طویل عرصے سے لوگوں کو متاثر کرتا رہا ہے۔ پلے بوائے کے 1978 کے شمارے میں ایک کہانی چھپی تھی کہ کیا مردوں کو اپنی خواتین کو دھوکہ دینے کی ضرورت ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ساني نے بی بی سی کو 2013 میں جرمنی میں ہونے والی ایک تحقیق کے بارے میں بتایا۔ یہ رپورٹ 1970 کے ایک عشرے کے تجربے پر مبنی تھی۔

اس تحقیق میں مردوں اور عورتوں کے ایک گروپ کو شامل کیا گیا تھا۔ انھیں اجنبی لوگوں سے جنسی تعلقات قائم کرنے لیے کہنا تھا۔ تجربے کے ابتدائی جو نتائج سامنے آئے اس میں مردوں کی طرف سے ہاں تھی لیکن خواتین کی طرف سے نہ تھی۔

سانی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کئی دوسری وجوہات بھی کارفرماں ہوتی ہیں۔ ان میں تشدد کا خطرہ یا سماجی طور پر کلنک جیسی چیزیں اہم ہیں۔

2013 میں اسی طرح کی ایک تحقیق خفیہ طریقے سے کی گئی۔ مردوں اور خواتین کو ممکنہ پارٹنرز کی تصاویر دکھائی گئیں اور ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان کے ساتھ سیکس کرنا چاہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس پر دونوں نے ہاں کہا۔ مردوں نے عورتوں کے مقابلے میں زیادہ پارٹنرز منتخب کیے لیکن خواتین بھی یکساں طور پر وقتی جنسی تعلقات کے لیے تیار اور متفق تھیں۔ ساني کے مطابق خواتین ساتھی کے انتخاب میں احتیاط سے کام لیتی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ پرہیزگار ہوتی ہیں۔

ڈارون کا نظریہ اس خیال پر مبنی تھا جس میں بتایا جاتا ہے کہ مرد حیاتیاتی طور پر زیادہ جوشیلے ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ حمل اور بچوں کی پرورش کا مسئلہ ہوتا ہے اس لیے ازدواجی زندگی پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

اس طرح کی سوچ آج بھی زندہ ہے۔ لیکن سانی کہتی ہیں کہ ڈارون نے سماجی سیاق و سباق کی بنیاد پر باتیں کہی تھیں۔ یہ ساری چیزیں قدیم معاشرے میں فٹ بیٹھتی ہیں۔ سانی کا کہنا ہے کہ دور قدیم میں خواتین کی جنسی حس کو دبا کر رکھا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ڈارون نے اس بات کو نظر انداز کیا ہے کہ خواتین کی جنسیت کو پدرانہ سماج میں ہزاروں سالوں سے دبا کر رکھا گیا تھا۔

غیر مغربی معاشروں کا خیال ہے کہ خواتین کا روایتی جنسی رویہ نامیاتی خصوصیات کے مقابلے میں ثقافتی اقدار پر زیادہ منحصر ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں