افغان روبوٹ ساز لڑکیوں کے لیے امریکی ویزا مسترد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغان ٹیم کی شرکا کا کہنا ہے کہ انھیں علم نہیں ہے کہ ان کا ویزہ کیوں مسترد کیا گیا

امریکہ میں روبوٹس سازی کے لیے ہونے والے ایک مقابلے میں شریک افغان لڑکیوں کی ٹیم اپنی بنائی گئی مشین مقابلے میں پیش کیے جانے کو سکائپ پر ہی دیکھ سکے گی کیونکہ ان کا ویزہ مسترد کر دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چھ مسلمان ممالک پر سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں تاہم ان ممالک میں افغانستان شامل نہیں تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پابندیوں کے شکار ممالک میں شامل ایران، سوڈان اور شام کی ٹیمیں کسی طرح امریکہ جانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

افغان ٹیم کی شرکا کا کہنا ہے کہ انھیں علم نہیں ہے کہ ان کا ویزا کیوں مسترد کیا گیا۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ انفرادی معاملات پر بات نہیں کرسکتا۔ اس مقابلے میں شریک گیمبیا کی ٹیم کو بھی ویزے نہیں مل سکے۔

چھ رکنی اس ٹیم کی گیند الگ الگ کرنے والی مشین کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے مقابلے میں ان کے آبائی علاقے ہرات سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔

ٹیم کی رکن 14 سالہ فاطمہ قادریان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ’ہم نہیں جانتے کہ ہمیں ویزا کیوں نہیں ملا جبکہ مقابلے میں شریک دوسرے ممالک کی ٹیموں کو ویزا دے دیا گیا ہے۔`

ان کی ٹیم نے ویزے کے حصول کے لیے کابل میں موجود امریکی سفارتخانے کا دو مرتبہ دورہ کیا۔

ٹیم کی دوسری رکن 17 سالہ لیڈا عزیز کا کہنا تھا ’مقابلے میں شریک دوسرے تمام ممالک کو ویزا دیا گیا اس لیے یہ افغانستان کے عوام کی واضح تذلیل ہے۔‘

دی فرسٹ گلوبل کی جانب سے منعقدہ مقابلے میں روبوٹک گیمز کے مختلف سلسلوں میں 164 ممالک کی ٹیمیں شریک ہیں۔

فرسٹ گلوبل کے صدر جو سیسٹک نے تنظیم کے فیس بک صفحے پر امریکی فیصلے کے حوالے سے افسوس کا اظہار کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں