کینسر کے پھیلاؤ کی عکس بندی

تصویر کے کاپی رائٹ Ueda/Miyazono

جسم میں کینسر کے خلیوں کی نقل و حرکت کو جاپان میں ایک ویڈیو کے ذریعے عکس بند کیا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں جسم کے عام خلیوں کو سبز رنگ میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ کینسر زدہ خلیے سرخ رنگ کے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹوکیو اور ریکن کوانٹیٹو بائیولوجیکل سینٹر کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اس مہلک عمل کی وضاحت ہو سکے گی۔

* تجربات میں کینسر کے پھیلاؤ میں 75 فیصد کمی

اس تحقیق کے دوران چوہے کو استعمال کیا گیا ہے تاہم یہی طریقہ ایک دن انسانوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

کینسر کے جسم میں پھیلنے کے عمل کو میٹاسٹسس کہتے ہیں۔

کینسر کے پھیلنے سے پہلے ہی کینسر کو روکنا آسان ہوتا ہے لیکن اگر یہ پھیل جائے تو پھر کنٹرول بہت مشکل ہے۔

کینسر کا پھوڑا خود تو بڑھتا ہی ہے لیکن اس کے کچھ حصے الگ ہو کر جسم میں خون کے ساتھ گردش کرتے ہیں اور مزید جگہوں پر کینسر کے خلیے بن جاتے ہیں۔

کینسر کے خلیوں کے پھیلاؤ کے طریقہ کار کو مزید گہرائی سے سمجھنے پر اس کے علاج میں مدد ملے گی۔

تجربے کے دوران ڈاکٹرز نے چوہے کے جسم میں کیسنر کے ٹشوز ڈالے۔ اس کے بعد اس بیماری کہ پھیلاؤ کو جانچنے کے لیے ایسے کیمائی مادے اس کے جسم میں ڈالے جس کی مدد سے چوہے کے جسم کے اندرونی اعضا بہت زیادہ شفاف ہو گئے۔

اس سے جسم کی تصاویر بنائی جا سکیں اور کینسر کے خلیوں کی شناخت ہو سکی۔

سیل رپورٹ نامی جریدے میں شائع تحقیق میں کیسنر کے خلیوں کی پھیپھڑوں، آنتوں اور جگر میں پھیلاؤ کی تفصیل شامل کی گئی ہے۔

تحقیق میں شامل ڈاکٹر کوہی مییازونو کا کہنا تھا ’کینسر کے بیشتر خلیے دوران سفر مر گئے لیکن کینسر نے ان کے دوبارہ بڑھنے کے لیے پھر سے کیمیائی سگنلز بھیجنا شروع کر دیے۔‘

محققین نے ان میں سے ایک کے اثرات کو بھی پرکھا جسے ’ٹی جی ایف بیٹا‘ کہا جاتا ہے اور دیکھا کہ یہ ڈرامائی انداز میں بہتر ہوا اور پھیپھڑوں میں کینسر کے خلیوں کی کالونی بنا دی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو خود بخود ٹھیک ہو جانے والی بیماریوں سمیت کئی دوسری بیماریوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں