فرانس کا پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی کا منصوبہ

الیکٹرک کاریں تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رینو کمپنی کی الیکٹرک کاریں فرانس میں خاصی مقبول ہیں

فرانس نے 2040 تک پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر پابندی لگانے کا منصوبہ پش کیا ہے۔ وزیرِ ماحولیات نکولاس ہولو نے اسے 'انقلابی' قدم قرار دیا ہے۔

نکولاس ہولو نے پیرس ماحولیاتی معاہدے کے ایک حصے پر عمل درآمد کے طور پر معدنیاتی ایندھن کے استعمال پر پابندی لگانے کے اس عزم کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ فرانس 2050 تک کاربن نیوٹرل ہو جائے گا۔

٭ والوو کا روایتی انجن کو خیرباد

فرانسیسی مارکیٹ میں چلنے والی 3.5 فیصد گاڑیاں ہائبرڈ ہیں، تاہم خالص الیکٹرک گاڑیاں صرف 1.2 فیصد ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ 2040 تک موجود معدنیاتی ایندھن والی گاڑیوں کا کیا بنے گا۔

ہولو کو نئے فرانسیسی صدر امانوئل میکخواں نے وزیرِ ماحولیات تعینات کیا ہے اور وہ ایک عرصے سے ماحولیات کے معاملے پر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

میکخواں نے صدر ٹرمپ کو 'دنیا کو پھر سے سرسبز بناؤ' کی ترغیب دے کر امریکی ماحولیاتی پالیسی پر کھلم کھلا تنقید کی تھی۔

ہولو نے کہا کہ جون میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پیرس معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ فرانس کو کاربن نیوٹرل بنانے کا محرک تھا۔

ہولو نے کہا کہ غریب شہریوں کو پرانی گاڑیوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مالی مدد دی جائے گی۔

اسی ہفتے کے آغاز پر کار کمپنی والوو نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2019 تک اس کی تمام گاڑیاں مکمل طور پر یا جزوی طور پر الیکٹرک ہوں گی۔

ہولو کے مطابق فرانسیسی کار کمپنیاں جن میں پرجو، سٹروئن اور رینو شامل ہیں، اس چیلنج سے نمٹنے میں کامیاب رہیں گی، تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ایسا کرنا آسان نہیں ہو گا۔

رینو کمپنی کی الیکٹرک کار 'زوئی' کا شمار یورپ کی مقبول ترین کاروں میں ہوتا ہے۔

تاہم یورپ میں اب بھی 95 فیصد گاڑیاں پیٹرول یا ڈیزل پر چلتی ہیں۔

فرانسیسی حکومت کے دوسرے ماحولیاتی اعلانات میں کوئلے کے پلانٹس کو 2022 تک ختم کرنا، ایٹمی بجلی گھروں کی پیداوار 2050 تک نصف کرنا اور تیل اور گیس کی دریافت کے نئے لائسنسوں کا اجرا ختم کرنا شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں