سٹریم رپنگ کے ذریعے پائریسی کا بڑھتا ہوا رجحان

یوٹیوب تصویر کے کاپی رائٹ YOUTUBE
Image caption سنہ 2014 اور 2016 کے درمیان سٹریم ریپنگ کا استعمال 141.3 فیصد بڑھا ہے

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ برطانیہ میں پائریسی کے لیے ’سٹریم رپنگ‘ یعنی غیر قانونی طریقے سے موسیقی ڈاؤن لوڈ کرکے پھیلانے کا طریقہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔

کئی ویب سائٹس اور ایپس موسیقی کی سائٹس سپوفٹی اور یوٹیوب پر موجود ویڈیوز اور مواد کو مستقل فائل کی شکل میں فونز اور کمپیوٹرز میں ڈاؤن لوڈ کرتی ہیں۔

ریکارڈ لیبلز کا کہنا ہے کہ ہزاروں لاکھوں ٹریکس کو ہر ماہ ان ریپنگ سروسز کے ذریعے غیر قانونی طور پر نقل اور تقیسم کیا جاتا ہے۔

ان میں سے ایک سروس کے ماہانا چھ کروڑ صارف ہیں۔

سٹریم ریپنگ کی وجوہات

  • موسیقی صارف کے پاس پہلے سے کسی فارمیٹ میں موجود تھی: 31 فیصد
  • لوگ آف لائن موسیقی سننا چاہتے ہیں: 26 فیصد
  • چلتے پھرتے موسیقی سننا چاہتے ہیں: 25 فیصد
  • موسیقی کے لیے رقم ادا نہیں کر سکتے: 21 فیصد
  • یہ خیال کہ آفیشل موسیقی کی قیمت زیادہ رکھی گئی ہے: 20 فیصد

انٹیلیکچوئل پراپرٹی آفس کی تحقیق کے مطابق برطانیہ کے 15 فیصد بالغ افراد باقاعدگی سے یہ سروسز استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے 33 فیصد افراد 16 سے 24 سال کی عمر کے ہیں۔

سنہ 2014 اور 2016 کے درمیان سٹریم ریپنگ کا استعمال 141.3 فیصد بڑھا ہے جس نے دوسی تمام غیر قانونی موسیقی کی سروسز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پی آر ایس فار میوزک کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ ایشکورٹ کا کہنا تھا ’ہمیں امید ہے کہ یہ تحقیق کاپی رائٹس کے حوالے سے حقوق سے متعلق نئے اقدامات کرنے کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔ ‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں