انٹارکٹیکا میں چھ ہزار مربع کلومیٹر کا تودہ برفانی خطے سے علیحدہ

تودہ تصویر کے کاپی رائٹ BAS

انٹارکٹیکا میں ایک بڑا برفانی تودہ کریک بڑھ جانے کے باعث 'لارسن سی شیلف' نامی برفانی خطے سے علیحدہ ہو گیا ہے۔

لارسن سی شیلف نامی برفانی خطے سے علیحدہ ہونے والے تودے کے کریک میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔

ویلز کے رقبے جتنے بڑے اس تودے کا سائز چھ ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس تودے کا برفانی خطے سے ٹوٹ جانے کا مشاہدہ امریکی سیٹیلائٹ نے لارسن سی آئس شیلف کے علاقے کے اوپر سے گزرتے ہوئے کیا۔

انٹارکٹیکا: برفانی تودے کی دراڑ میں مزید اضافہ

انٹارکٹیکا میں وسیع و عریض برفانی تودہ ٹوٹنے کے قریب

سائنسدان اس تودے کے علیحدہ ہو جانے کی توقع کر رہے تھے کیونکہ ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے سے اس برفانی خطے میں دراڑیں پڑ رہی تھیں۔

تودہ تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

تاہم 2014 سے دراڑیں پڑنے کے عمل میں تیزی آئی۔ یہ دراڑ گذشتہ دسمبر میں اچانک بڑھ گئی تھی اور اِس چھ ہزار مربع کلومیٹر لمبے تودے کا صرف 20 کلوميٹر کا حصہ برفانی خطے سے جڑا ہوا تھا۔

تودہ تصویر کے کاپی رائٹ NASA

لارسن سی برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے سب سے شمالی حصے میں واقع ہے اور اس کی موٹائی 200 میٹر ہے۔

لارسن سی میں موجود شگاف پر سائنسدان ایک طویل عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 1995 میں لارسن اے اور پھر 2002 میں لارسن بی بھی اسی طرح انٹارکٹیکا کے سب سے شمالی خطے سے ٹوٹ کر الگ ہو گئے تھے۔

200 میٹر موٹا یہ تودہ قلیل مدت میں نہ تو زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرے گا اور نہ ہی زیادہ دور جا سکے گا۔ تاہم اس کی نگرانی ضروری ہے۔

سمندری لہریں اور تیز ہوائیں اس تودے کو انٹارکٹک کے شمال کی جانب دھکیل دیں گی جہاں بحری جہازوں کے لیے یہ تودہ خطرہ بنے گا۔

امریکی سیٹیلائٹ ایکوا کے انفرا ریڈ سینسرز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ برفانی خطے اور علیحدہ ہوئے تودے کے درمیان شفاف پانی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ارد گرد برف اور ہوا کی نسبت پانی تھوڑا گرم ہے۔

یورپی سیٹیلائٹ سینٹینل ون بھی جلد ہی اس تودے کی تصویر لے سکے گی۔

ماضی کے تودوں سے کیا مختلف ہے؟

تودہ تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

جب تودوں کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لارسن سی شیلف سے علیحدہ ہونے والے اس تودے کا شمار دس بڑے تودوں میں ہوتا ہے تاہم یہ تودہ انٹارکٹک میں علیحدہ ہونے والے بہت بڑے بڑے تودوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔

ریکارڈ کے مطابق سیٹیلائٹس کے زمانے میں سب سے بڑا تودہ بی 15 تھا۔ یہ تودہ سنہ 2000 میں روس آئس شیلف سے علیحدہ ہوا تھا اور یہ 11 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط تھا۔

چھ سال بعد بھی اس تودے کے چھوٹے چھوٹے حصے نیوزی لینڈ کے قریب سے گزرے تھے۔

میپ تصویر کے کاپی رائٹ NASA

سنہ 1956 میں رپورٹ کیا گیا کہ امریکی بحریہ کا آئس بریکر جہاز کا سامنا 32 ہزار کلومیٹر سائز کے تودے سے ہوا تھا۔ سائز میں یہ تودہ بیلجیئم سے بھی بڑا تھا۔ بدقسمتی سے اس وقت ایسے سیٹیلائٹ نہیں ہوتے تھے جو اس تودے پر نظر رکھتے یا اس کی تصدیق کر سکتے۔

لارسن سی شیلف اس حوالے سے بھی پہچانی جاتی ہے کہ اس سے کئی تودے علیحدہ ہوئے ہیں۔ 1986 میں نو ہزار مربع کلومیٹر کا ایک تودہ علیحدہ ہوا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں