فیس بک کی پاکستانی خواتین کو کاروبار کے لیے تربیت

فیس بک
Image caption لاہور کی رہائشی تہمینہ چوہدری گجومتہ کے علاقے میں ایک چھوٹی سی مصالحوں کی فیکٹری چلاتی ہیں

مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کو زیادہ تر لوگ صرف باہمی رابطے کے ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں تاہم کچھ لوگوں کے لیے یہ آمدن کا ذریعہ بھی ہے۔ دنیا بھر میں فیس بک کے ذریعے لوگ کاروبار سے لاکھوں کما رہے ہیں۔ اب ان میں پاکستانی خواتین بھی شامل ہونے جا رہی ہیں جن کو اس کاروبار کے گر کوئی اور نہیں بلکہ خود فیس بک سکھانے پاکستان آ رہا ہے۔

جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے فیس بک کا نیا فیچر

لاہور کی رہائشی تہمینہ چوہدری گجومتہ کے علاقے میں مسالے کی ایک چھوٹی سی فیکٹری چلاتی ہیں جسے انھوں نے معمولی سی سرمایہ کاری سے 2011 میں انسٹا فوڈ کے نام سے شروع کیا۔ سبزیوں کو خشک کر کے ان سے مسالا بنانے کا کام تو تہمینہ بخوبی کر لیتی ہیں لیکن اپنی بنائی گئی اشیا کو آن لائن مارکیٹ کیسے کریں، یہ ان کے لیے ایک بڑی الجھن ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تہمینہ چوہدری نے بتایا کہ فیس بک پر ان کی کمپنی کا پیج تو ہے لیکن اس پر بزنس کیسے پروموٹ کریں، اسکا کوئی اندازہ نہیں۔

’فیس بک پیج تو ہے لیکن تکنیکی مہارت نہیں، نہ وہ ٹپس معلوم ہیں کہ کس طرح اپنی مصنوعات کو بہتر طریقے سے پروموٹ کر سکوں۔ جن لوگوں کو ہم ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں ان لوگوں تک اپنا پیغام کیسے پہنچائیں، یہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

تہمینہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا بنایا گیا سبز مرچ پاؤڈر برصغیر میں اور کہیں دستیاب نہیں لیکن جب تک وہ اس کی خصوصیات لوگوں کو سمجھائیں گی نہیں، ان کی مصنوعات کی انفرادیت قائم نہیں ہو سکے گی۔

’مارکیٹنگ کے حوالے سے آج کل پرنٹ میڈیا لوگ اتنا پڑھتے نہیں ہیں اور الیکٹرانک میڈیا پر اشتہار دینے کی ہماری استطاعت نہیں۔ ایسے میں سوشل میڈیا ہی وہ واحد ذریعہ رہ جاتا ہے جسے ہم استعمال کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہمیں اس کا موثرطریقہ کار معلوم ہو۔‘

جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ کے نت نئے طریقوں سے ناواقفیت کے باعث پاکستان میں تہمینہ جیسی متعدد خواتین اپنی بنائی گئی اشیا کی صحیح سے تشہیر نہیں کر پاتیں۔ اس کی ایک اور بڑی وجہ ہے سوشل میڈیا کا محدود استعمال اور تکنیکی سپورٹ کی کمی۔ تو کیا یہ مشکل کام ہے؟ شاید نہیں، اسی لیے اس کو ممکن بنانے کے لیے فیس بک کی ایک ٹیم نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں فیس بک کو ان خواتین تک رسائی کا ذمہ ماریہ عمر نے لیا ہے۔ ماریہ وومن ڈیجیٹل لیگ نام کی پاکستانی فرم کی بانی ہیں۔

ماریہ کے مطابق ان کی دعوت پرفیس بک کی ٹیم اگست کے آخر میں پاکستان آئے گی اور چھوٹے کاروبار کرنے والی خواتین کو تربیت دے گی کہ وہ انٹرنیٹ کو اپنی مصنوعات کی فروخت کے لیے کیسے استعمال کر سکتی ہیں۔

اس پروجیکٹ کے حوالے سے ماریہ عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیس بک کا شی بزنس پروگرام ہے جس کا حال ہی میں آغاز کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق پاکستانی خواتین بزنس سیکٹر میں اپنی قابلیت منوا چکی ہیں، چاہے وہ گھروں سے کیے جانے والا ریپلیکا کپڑوں کا کاروبار ہو یا کیک بنانے کا آن لائن بزنس۔ ماریہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی خواتین میں بزنس کی بھرپور قابلیت ہے، ضرورت ہے تو صحیح تربیت کی۔

’پاکستانی خواتین کا بہت بڑا مسئلہ ہے کہ ان کو مارکیٹنگ کرنی نہیں آتی۔ ان کو اپنی مصنوعات، چاہے کتنی بھی اچھی ہوں، اسے بیچنا نہیں آتا۔ اس ٹریننگ کے ذریعے ہم ان کو یہ اشیا بیچنا سکھائیں گے۔ دوسری طرف انھیں یہ بھی سمجھائیں گے کہ ان کی پراڈکٹ ڈیویلپمنٹ کیا ہے۔ آج کل لوگوں کی کیا ضروریات ہیں اور ان کو کس طرح کے پراڈکٹ لانی چاہییں تاکہ لوگوں کی وہ ضروریات پوری ہو سکیں۔‘

یہ اپنی نوعیت کی پہلی تربیت ہے جس کے لیے فیس بک کی ٹیم جلد پاکستان آ رہی ہے اور پہلے مرحلے میں ورکشاپ کراچی، لاہور اور پشاور میں منعقد کی جائیں گی۔

فیس بک کے شی بزنس پروگرام کے تحت اس کورس میں تین سطح کی ٹریننگ ہوں گی۔ پہلے مرحلے ان خواتین کو ٹرین کیا جائے گا جن کو فیس بک کی زیادہ معلومات نہیں، پھروہ خواتین جو پہلے سے ہی بزنس کی لیے فیس بک کا استعمال کر رہی ہیں اور آخر میں فیس بک کی ماہر کاروباری خواتین جن کو ایڈوانس لیول کی تربیت خود فیس بک کی ٹیم دے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں