قدیم مصریوں کی ختنے میں دلچسپی

عمل تولید تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قدیم مصر میں بچے کی پیدائش کو تصاویر کے ذریعے دکھایا گيا ہے

آپ نے فلموں میں اکثر ڈاکٹر کو یہ کہتے سنا ہوگا کہ 'مریض کو اب دوا نہیں بلکہ دعائیں بچا سکتی ہیں۔

قدیم مصر میں مریض کو بچانے کے کام میں ادویات کے ساتھ جادو ٹونے کا بھی رواج تھا۔ اس دور میں مذہب اور سائنس کو علیحدہ کرنے والی کوئی لائن نہیں تھی۔

یہاں تک کہا جاتا تھا کہ بیماریاں دیوتاؤں کی جانب سے سزا ہیں اور اندرونی بری روح کو تعویذ، گنڈے اور منتروں سے دور کیا جا سکتا ہے۔

٭ مصر سے ملنے والا مجمسہ ’فرعون رعمسیس دوم کا نہیں‘

٭ 'فرعون‘ کے مجسمے کا دھڑ نکال لیا گیا

لیکن یہ سب ادویات کے استعمال کے ساتھ کیا جاتا تھا اور ان کے بعض رواج اتنا زمانہ گزرنے کے بعد بھی باقی ہے۔.

بدقسمتی سے قدیم مصر میں علاج سے منسلک زیادہ تر معلومات اب معدوم ہیں جس میں سکندریہ کی شاہی لائبریری کے خزانے وغیرہ شامل ہیں۔

تین ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے مصر کی ثقافت انتہائی ترقی یافتہ اور جدید تھی۔ اس دور میں مصر کے لوگ ادویات کے بارے میں اس قدر بیدار تھے کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔

کس طرح کی جاتی تھی سرجری؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصر کے آلات جراحی کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

مصر میں لاشوں کو ممی بنا کر رکھے جانے سے آپ واقف ہی ہوں گے۔ حنوط شدہ لاشوں کے ذریعے قدیم مصر میں لوگوں نے انسانی جسم کے بارے میں اچھی خاصی معلومات جمع کر لی تھی۔

اس وقت مرنے کے بعد انسان کے جسم کو آخری سفر کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ اس پورے عمل میں مصری جسم کے حصوں کو دیکھنے اور بیماریوں کو جان پاتے تھے جس کی وجہ سے ان کی زندگی ختم ہوئی۔

اس کام سے انھیں کئی بیماریوں کا علم ہو گیا تھا اور وہ بیماریوں کے علاج کے طریقوں سے واقف ہو گئے تھے۔ ان میں کھوپڑی میں سوراخ کرنے سے لے کر ٹیومر ہٹانے جیسے کام شامل تھے۔

دانتوں کا علاج

مصر کے لوگ آٹا حاصل کرنے کے لیے گندم صاف کرتے اور پیسنے کے لیے کڑی محنت کرتے تھے پھر بھی ان کے کھانوں میں کنکر اور ریت کے ذرات رہتے تھے۔

ایسے کھانوں سے دانتوں کے درمیان میں فاصلے اور انفیکشن رہتا تھا۔ پرانے طبی طریقہ پیپرز ایبرز کے مطابق، ایسے بہت سے طریقے تھے جن کے استعمال سے یہ فاصلے بھرے جانے کے ساتھ انفیکشن کو دور کیا جا سکتا تھا۔

ان میں سے ایک طریقہ یہ بتاتا ہے کہ دانت نکلنے پر ہونے والی خارش کے لیے اس حصے پر زیرہ اور لوبان کے سامان استعمال کیے جا سکتے تھے۔

ایسا ہی ایک علاج شہد بتایا گیا ہے، جسے مصر کے لوگ اینٹی سیپٹک کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ دوسرے بہت سے معاملات میں وہ ململ کا استعمال بھی کرتے تھے۔

مصنوعی اعضاء

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قدیم مصر میں اعضا کی پیوند کاری کے شواہد ملتے ہیں

قدیم مصر کے لوگوں کو زندہ اور مردہ دونوں لوگوں کے لیے نقلی (مصنوعی) اعضاء کی ضرورت پڑتی تھی لیکن بعد کے عہد میں ایسے اعضاء کی زیادہ ضرورت پڑنے لگی۔

ان کے دوسری زندگی کا یہ تصور تھا دوبارہ جسم حاصل کرنے کے لیے لاش کا مکمل ہونا ضروری ہے۔ حنوط شدہ لاش میں جسم کو پورا کرنے پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا تھا۔

بہر حال آج ہی کی طرح اس وقت بھی مصنوعی اعضاء زندہ لوگوں کی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لگائے جاتے تھے۔

سب سے زیادہ مصنوعی اعضاء میں انگلی شامل تھی۔ تصویر میں نظر آنے والی انگلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک خاتون نے اس کا استعمال کیا تھا اور یہ سب سے پرانا مصنوعی عضو ہے۔

ختنہ پر مصریوں کا زور

تصویر کے کاپی رائٹ JON BODSWORTH
Image caption شاید یہ دنیا کی پہلی مصنوعی انگلیاں ہیں جسے کسی خاتون نے استعمال کیا تھا

تاریخ میں دنیا کے بہت سے مذہبی عقائد اور سماج میں ختنہ کا رواج تھا۔

قدیم مصر میں بھی ختنے کیے جانے کی روایت تھی۔ اور یہ اتنی زیادہ تھی کہ بغیر ختنے والے عضو تناسل پر لوگ حیرت کرتے تھے۔

اس بارے میں اتنا معلوم ہے کہ مصر کے فوجی اپنے قبضے میں آنے والے لیبیائي مردوں کو اپنے گھر لے جاتے تھے تاکہ ان کے رشتہ دار بھی ان کی شرمگاہ کو دیکھ سکیں۔

قدیم مصر میں صحت کی دیکھ بھال حکومت کے کنٹرول میں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قدیم مصر میں لوگ خوبصورت نظر آنے کے لیے بہت سی تراکیب استعمال کرتے تھے

اس دور میں ایسے کئی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ تھے جو ڈاکٹروں کو اس بات کی تربیت دیتے تھے اور یہ انسٹی ٹیوٹ مریضوں کا علاج بھی کرتے تھے۔

کئی ایسے طبی نسخے بھی تھے جس میں مریضوں کے طریقۂ علاج لکھے تھے۔

ایسی بھی تفصیل ملی ہیں، جن میں کسی تعمیراتی سائٹ پر طبی كیمپس لگائے جاتے تھے۔ اس بات کے بھی اشارے ملتے ہیں کہ جب کسی تعمیراتی سائٹ پر کوئی حادثہ ہو جاتا تو وہاں ہی ابتدائی طبی امداد اور علاج کیا جاتا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں