حقیقی خوشی کا راز، فارغ اوقات یا دنیاوی اشیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Sport
Image caption پیسے کا بہترین مصرف اپنے لیے فراغت کے اوقات حاصل کرنا ہو سکتا ہے

ایک تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ دنیاوی اشیا پر خرچہ کرنے والوں سے زیادہ اُن لوگوں کو حقیقی خوشی اور ذہنی اطمیان حاصل ہوتا ہے جو اپنا وقت بچانے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔

دوسروں کو پیسے دے کر اپنے گھریلو کام کروانا اس کی ایک مثال ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق وقت کی کمی کے احساس سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ ذہنی پریشانی اور بے خوابی کا باعث بھی بنتے ہیں۔

اس کے باوجوہ بہت سے صاحب ثروت افراد بھی ان کاموں کے لیے خرچ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں جو وہ خود کرنا پسند نہیں کرتے۔

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں واقع یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر الیزبتھ ڈن کا کہنا ہے کہ متعدد تجزیوں سے یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ جو لوگ فراغت کے اوقات حاصل کرنے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں وہ زیادہ مطمئن اور شاد رہتے ہیں۔

دنیا کے کئی ملکوں میں آمدن میں اضافے کی وجہ سے اس خیال نے جنم لیا ہے۔ جرمنی سے امریکہ تک لوگ وقت کی کمی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے روزمرہ کے کاموں کو پورا کرنے کی تگ و دو میں ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ماہرین نفسیات نے امریکہ، کینیڈا اور ہالینڈ میں یہ سروے کرنے کا سوچا کہ کیا پیسہ خرچ کر کے فراغت کی چند گھڑیاں حاصل کرنے سے لوگ خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔

امریکہ، کینیڈا، ڈنمارک اور ہالینڈ میں چھ ہزار افراد سے جن میں آٹھ سو کے قریب لاکھ پتی بھی شامل تھے، یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ اپنا وقت بچانے کے لیے ہر ہفتے کتنے پیسے خرچ کرتے ہیں۔

تحقیق کرنے والوں کو معلوم ہوا کہ ایک تہائی سے بھی کم افراد ہر مہینے اپنے لیے فارغ اوقات حاصل کرنے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔

جن لوگوں نے یہ بتایا کہ وہ اپنے لیے وقت حاصل کرنے کے لیے پیسہ خرچ کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ خوش اور مطمئن ہیں۔

تحقیق دانوں نے پھر کینیڈا کے شہر وینکور میں دو ہفتوں پر محیط، ساٹھ برسرِ روزگار افراد پر ایک تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایک اختتام ہفتہ شرکاء کو کہا گیا کہ وہ 40 ڈالر یا 30 پاؤنڈ کسی ایسے کام پر خرچ کریں جس سے ان کا وقت بچ سکے۔ انھوں نے اپنے دفتروں میں کھانا منگوایا، ہمسائے کے بچوں کو چھوٹے موٹے کام کرنے کے لیے پیسے دیے یا گھر کی صفائی کے لیے یہ رقم خرچ کی۔

دوسرے ہفتے ان سے کہا گیا کہ وہ مختلف اشیا خریدنے کے لیے رقم خرچ کریں۔ ان اشیا میں شراب، کپڑے اور کتابیں شامل تھیں۔

تحقیق دانوں نے اپنی تحقیق کے نتائج کو ایک سائنسی جریدے میں شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف اشیا خریدنے کے مقابلے میں وقت کی بچت پر خرچہ کرنے سے وقت کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ سے بچا جا سکتا ہے اور خوشی حاصل ہو سکتی ہے۔

پروفیسر ڈن جو ہاورڈ سکول آف بزنس کے ماہرین کے ساتھ بھی کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پیسے سے وقت خریدا جا سکتا ہے اور بڑے مؤثر انداز میں خریدا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس ساری تحقیق میں ان کے لیے یہ پیغام ہے کہ آپ اس بارے میں سوچیں کہ وہ کون سا کام ہے جو کرنے سے آپ کو سخت کوفت ہوتی ہے یا جو کرنا آپ کو سخت ناگوار گزرتا ہے اور یہ آپ کے ذہن پر سوار ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا کام کسی اور کو پیسے دے کر کروا سکتے ہیں تو آپ کو اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ممکن ہے تو سائنس کہتی ہے کہ یہ پیسے کا بہت اچھا استعمال ہو سکتا ہے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق ان لوگوں کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے جنھیں دفتروں یا کام سے آنے کے بعد گھر پر دوسری 'شفٹ' گھریلو کاموں کے لیے کرنی پڑتی ہے۔

پروفیسر ڈن کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق ایسے لوگوں کو دوسری شفٹ سے نجات حاصل کرنے کی راہ بتاتی ہے۔

اس سے قبل ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ جو لوگ وقت کو پیسے پر ترجیح دیتے ہیں وہ ان لوگوں سے زیادہ خوش رہتے ہیں جو پیسے کو وقت پر ترجیح دیتے ہیں۔

اسی بارے میں