فیس بک ویڈیو دیکھنے کی ویب سائٹ واچ ٹیب متعارف کروا رہی ہے

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فیس بک اب یوٹیوب اور ٹی وی نیٹ ورک کے طرز پر ویڈیو کے لیے خصوصی ویب سائٹ متعارف کروا رہی ہے۔ فیس بک کے صارفین اب ’واچ ٹیب‘ کے ذریعے مختلف ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔

’واچ ٹیب‘ کے ذریعے صارفین بہت سے پروگرامز دیکھ سکتے ہیں، جن میں بعض پروگرام کی خریداری کے لیے فیس بک مالی معاونت کرے گی۔

صارفین اپنی مرضی کے مطابق ویڈیو دیکھ سکیں گے اور وہ یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ اُن کے دوست کیا دیکھ رہے ہیں۔

٭ فیس بک کی سینسرشپ سے متعلق 'عجیب' پالیسی

صارف اُس ویڈیو پر کیے جانے والے تبصرے پڑھ سکتے ہیں اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ اور دوسرے گروپس میں شیئر کر سکتے ہیں۔

فیس بک کے مالک مارک زکربرگ نے کہا کہ 'ویڈیو دیکھنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آپ غیر متحرک ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ اس سے اپنے تجربات کو شیئر کرنے کا موقع مل سکتا تھا اور لوگوں کو اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔

اس وقت بھی فیس بک پر ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں لیکن ان میں زیادہ تر غیر پیشہ ور افراد کی بنائی ہوئی ویڈیو یا خبر رساں اداروں کی جانب سے خبروں پر مشتمل چھوٹی چھوٹی ویڈیوز ہوتی ہیں۔

سماجی رابطوں کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک نے گذشتہ برس ویڈیو کا ٹیب متعارف کروا کر یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ حقیقی مواد اکٹھا کرنے کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

'واچ ٹیب' فیس بک اور پروگرام بنانے والوں کو آمدن کا نیا ذریعہ فراہم کرے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئی پراڈکٹ سے فیس بک ایک مشکل اور پرہجوم مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہے جہاں روائتی ٹی وی نیٹ ورکس اور آن لائن ویڈیو سائٹس جیسے یو ٹیوب اور نیٹ فلکس اُس کے مدمقابل ہیں۔

فیس بک نے 'واچ ٹیب' کے لیے مواد اکٹھا کرنے کے لیے بیس بال لیگ، ویمن باسکٹ بال اور نیشنل جیوگرافک سے سفاری سمیت دیگر پروگرام لینے کا معاہدہ کر لیا ہے۔

اگرچہ پہلے مرحلے میں ان پروگرامز کو امریکہ میں محدود پیمانے پر دیکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں