حکمران باہر کیوں علاج کرواتے ہیں؟

محمد بحاری تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائجیریا کے صدر کی صحت کے بارے میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے

نائجیریا، انگولا، زمبابوے، بینن اور انگولا کے صدور اور پاکستان کے وزیرِ اعظم میں کیا مشترک ہے؟ ان میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ انھیں اپنے ملک کے صحت کے نظام پر بھروسہ نہیں ہے۔

نائجیریا کے صدر اپنے مذکورہ ہم منصبوں میں پہلے ہیں جنھوں نے بیرونِ ملک طبی امداد کے لیے سفر کیا لیکن گذشتہ سال تمام مذکورہ صدور صحت کی وجہ سے بیرون کا سفر کر چکے ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف بھی گذشتہ برس لندن میں علاج کروا چکے ہیں۔

٭ نائجیریا میں 75 ہزار بچوں کے ’بھوک سے مرنے کا خطرہ‘

٭ ’موگابے کی لاش بھی انتخابات جیت جائے گی‘

بہت سے معاملوں میں ان حکمرانوں نے اپنے ملک کی کم فنڈ والی طبی خدمات کو خیرباد کہا ہے جس پر ملک کے تقریبا تمام تر شہریوں کا انحصار ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی صحت کے ادارے کے مطابق سنہ 2010 میں افریقی ممالک میں صحت کی فنڈنگ 135 امریکی ڈالر فی کس تھی جبکہ امیر ممالک میں یہ رقم 3150 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔

صحت کے نگراں ادارے سیٹیزن ہیلتھ واچ کے مطابق زمبابوے جیسے ملک میں سرکاری ہسپتالوں میں عام دردکش اور اینٹی بایوٹک دوائیں بھی بعض اوقات ختم ہو جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عام شکایت یہ ہے ملک کے طبی نظام پر بہت کم خرچ کیا جاتا ہے

اس کا کہنا ہے کہ فنڈ کی کمی کے سبب سرکاری طبی نظام تشویشناک انداز میں روبہ زوال ہے۔

بی بی سی ابوجا کے مدیر نظیرو میکائیلو کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں سرکاری طبی نظام انتہائي خستہ ہے۔ حکومت کے ملازمین اور پرائیویٹ سروسز میں صحت کے بیمے کی سکیم کے تحت کچھ لوگوں کو پرائیویٹ طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہے جبکہ زیادہ تر افراد کا سرکاری ہسپتالوں پر ہی انحصار ہے۔

ان دونوں ممالک میں اچھے نجی طبی نظام پیسے والے لوگوں کے لیے دستیاب ہیں لیکن بعض معاملوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ بیرون ملک میں بہتر سہولیات ہیں۔

نائیجیریا کے 74 سالہ صدر محمد بخاری رواں سال اپنے علاج کے لیے چار ماہ برطانیہ میں گزار چکے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الجیریا کے صدر پر سنہ 2013 میں فالج کا حملہ ہوا تھا

زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے سنہ 1980 سے اقتدار میں ہیں اور رواں سال تیسری بار علاج کے لیے سنگاپور جانے پر ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ ہسپتال سے ملک چلا رہے ہیں۔

انگولا کی حکومت نے مئی کے مہینے میں بتایا کہ صر جوز ایڈوارڈو دوس سینٹوس، جو 38 سال سے صدر ہیں، انھوں نے علاج کے لیے سپین کا سفر کیا ہے۔ لیکن نائجیریا کی طرح یہاں کی حکومت کو پریشانیوں کا سامنا نہیں ہے۔

حزب اختلاف کے ترجمان ایورسٹو دا لوز نے کہا کہ ان کے دورے سے ان کی چار دہائیوں کی حکومت کی نااہلی ثابت ہوتی ہے جو یہ دکھاتی ہے کہ صحت کی سہولیات کی حالت کتنی خستہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زمبابوے کے صدر موگابے بیماری کے سبب آنکھوں کو آرام دے رہے ہیں، سو نہیں رہے!

الجیریا کے 80 سالہ صدر عبدالعزیز بوتفلیکا کی صحت ایک عرصے سے ناساز ہے۔ سنہ 2013 میں ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا اور انھیں سنہ 2014 میں ہونے والے انتخابات میں ویل چیئر پر ووٹ ڈالنے جاتے دیکھا گيا اور بعد میں وہ فرانس کے ایک ہستال میں علاج کے لیے گئے تھے۔

بینن کی حکومت اپنے نسبتاً کم عمر صدر 59 سالہ پیٹرس ٹیلن کی صحت کے بارے میں تشویش رکھتی ہے۔ وہ جون میں علاج کے لیے فرانس گئے جہاں حکومت کے مطابق ان کے پراسٹیٹ اور نظام انہضام کے دو آپریشن ہوئے۔

لیکن دوسرے ملک علاج کے لیے جانے کی وجہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں کسی بھی صدر کے ترجمان نے یہ نہیں کہا کہ بیرون ملک عام طور پر طبی سہولیات بہتر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں