ووٹرز کریں گے اراکین اسمبلی کی کارکردگی کی کڑی نگرانی

موبائل ایپ
Image caption اب ووٹرز یہ جان سکیں گے کہ ان کے امیدوار اسمبلی میں کتنا حاضر اور کتنا غیر حاضر رہے

پاکستان میں اب اراکین اسمبلی کی کارکردگی کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے کیونکہ پشاور کے نوجوانوں نے ایک ایسی موبائل فون ایپ تیار کی ہے جس میں ووٹرز تمام اراکین اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں گے۔

عام انتخابات میں امیدوار اپنے ووٹرز سے لمبے چوڑے دعوے اور وعدے کرتے ہیں اور اکثر اپنی کارکردگی کی جھوٹی سچی کہانیاں بیان کرتے ہیں لیکن دور دراز علاقوں کے سادہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ ان کے کامیاب امیدوار اسمبلیوں میں جا کر کیا کرتے ہیں اور آیا وہ اسمبلیوں میں جاتے بھی ہیں یا دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔

اب ایسا نہیں ہوگا اب ووٹرز یہ جان سکیں گے کہ ان کے امیدوار اسمبلی میں کتنا حاضر اور کتنا غیر حاضر رہے، انھوں نے کتنے مواقع پر اسمبلی کی بحث میں حصہ لیا، کیا قرار دادیں اور سوالات پیش کیے اور اسمبلی میں قانون سازی میں کتنا کردار ادا کیا ہے۔

پشاور کے نوجوان موبائل فون پر ایسی ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں جس سے لوگوں کو اپنے نمائندوں اور اسمبلی کی کارروائی سے آگاہی ہوتی رہے گی۔ اس ایپ کا نام ٹریک ریپ رکھا گیا اور اس کا مطلب ہے نمائندے کی نگرانی اور یہ ایپ کسی بھی موبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

Image caption یہ ایپ کسی بھی موبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے

یہ ایپ انجینیئرنگ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبا کا منصوبہ ہے جس میں انھیں دیگر متحرک نوجوانوں کی مدد حاصل رہی۔

کمپیوٹر انجینیرنگ میں ڈگری حاصل کرنے والے محمد محسن نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں سال 2013 کے انتخابات میں اس وقت یہ خیال آیا جب وہ پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے جا رہے تھے۔ انھوں سے سوچا کہ کس امیدوار کو ووٹ دینا چاہیے اور امیدوار کی ماضی میں کیا کارکردگی رہی ہے۔

انھوں نے اس بارے میں دوستوں سے بات کی جس کے بعد آئی ٹی بورڈ کو یہ آئیڈیا دیا جس کی منظوری کے بعد انھوں نے اس پر کام شروع کیا اور اب تک یہ ایپ پانچ ہزار افراد ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔ یہ ایپ اینڈرائڈ اور آئی او ایس دونوں سسٹمز پر ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

اس ٹیم کے اہم رکن شفیق گگیانی سوشل ورکر ہیں اور یوتھ آرگنائزیشن کے رکن ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایس ایپ کے لیے ڈیٹا انھوں نے صوبائی اسمبلی کی ویب سائٹ، فیفن اور اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے حاصل کیا ہے۔ اس ایپ میں ہر حلقے کا علیحدہ سیکشن ہے، رکن اسمبلی کی تصویر کو کلک کریں گے تو اس رکن کا تمام ریکارڈ سامنے آجائے گا۔

Image caption یہ ایپ انجینیئرنگ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبا کا منصوبہ ہے

اس ٹیم کے رکن شہروز نے بتایا کہ ابتدا میں ڈیٹا حاصل کرنے میں مشکل تھی لیکن یہ ساتھیوں کی مدد سے حاصل کیا اور اب وہ اسے مزید آگے لے جانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آئندہ انتخابات میں نیا ڈیٹا حاصل کریں گے نئے ٹکٹ ہولڈرز کی تفصیلات حاصل کریں گے اور اس ایپ کے لیے قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں سے رابطہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

ٹیم کے اراکین نے بتایا کہ اس ایپ میں وہ سروے کر سکتے ہیں لوگوں کے سوالات ان کے نمائندوں تک پہنچا سکتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ اس ایپ میں وہ میسنجر بھی لا سکتے ہیں جس سے ووٹرز اور ان کے نمائندوں کے درمیاں رابطہ مسلسل قائم رہے گا ۔

ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال سے انتخابات میں بہتر اراکین کے انتخاب میں لوگوں کو مدد حاصل ہوگی اور اب اراکین اسمبلی اپنے ووٹرز کو دھوکہ نہیں دے سکیں گے کیونکہ ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہوگی۔

اسی بارے میں