اب گوگل پوچھے گا، ’کیا آپ کو ڈپریشن ہے؟‘

گوگل تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption 'اگرچہ یہ پی ایچ کیو نائن نامی سوال نامہ مددگار ہو سکتا ہے مگر یاد رہے کہ اس مرض کی تشخیص کے لیے یہ حتمی آلہ نہیں ہے۔'

گوگل پر ڈپریشن یعنی ذہنی دباؤ کے بارے میں سرچ کرنے والے صارفین کو جلد ہی ایک سوال نامہ دیا جائے گا جس سے وہ اس بات کا اندازہ لگا سکیں گے کہ کہیں وہ اس بیماری میں مبتلا تو نہیں۔

گوگل نے دہنی امراض کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم یو ایس الائنس آن مینٹل النس کے ساتھ مل کر اس پروجیکٹ کی بنیاد رکھی ہے جو کہ ابھی صرف امریکہ میں صارفین کو پیش کیا جائے گا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ یہ پی ایچ کیو نائن نامی سوال نامہ مددگار ہو سکتا ہے مگر یاد رہے کہ اس مرض کی تشخیص کے لیے یہ حتمی آلہ نہیں ہے۔‘

سوچیں کیسے سفر کرتی ہیں؟ دماغ کی سب سے تفصیلی تصاویر

اس خبر کا ایک بلاگ کے ذریعے اعلان کرتے ہوئے تنظیم نے خبردار کیا کہ اس سوال نامے کو تربیت یافتہ ذہنی امراض کے ماہر کی رائے کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ اسے لوگوں کو ان کی مدد کی جانب جانے کے ایک قدم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

تنظیم نے وضاحت کی کہ اگر آپ اس پر کلک کرتے ہیں تو آپ ایک پرائیویٹ جائزہ لے سکتے ہیں کہ آپ کو کسی ماہر کے پاس جانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

’پی ایچ کیو نائن کے نتائج آپ کو اپنے ڈاکٹر کے ساتھ قدرے زیادہ بہتر گفتگو کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔‘

گوگل سرچ میں اس سوال نامے کا لنک سرچ نتائج کے صفحے پر نولج باکس میں پیش کیا جائے گا۔ عام طور پر اس باکس میں عموماً سرچ کردہ الفاظ کی تعریف موجود ہوتی ہے۔

پی ایچ کیو نائن سوال نامہ نو سوالوں پر مشتمل ہے اور میں صارف کی ذہنی صحت کے بارے میں سوالات ہوتے ہیں۔

اس میں ایسے سوالات ہیں جیسے کہ ’آپ کو کتنی مرتبہ کسی بھی کام کرنے میں کوئی خوشی یا دلچسپی نہیں ہوتی۔‘ یا ’کیا آپ کو اپنے کاموں پر توجہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔‘

بہت سے تحقیقی جائزوں میں اسے کلینکل ڈپریشن کی جانچ کے لیے ایک قابلِ اعتماد ٹیسٹ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں