ووٹ کا تقدس مگر ن لیگی ووٹر کا کیا؟

عامر علی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکن عامر علی خانیوال میں 16 اگست کو مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

سوشلستان میں ’ڈینگی برادارن' کے بعد ’ڈینگی خان' کی واپسی ہوئی جس میں لوگ عمران خان کے شہباز شریف اور نواز شریف کی ڈینگی کے خلاف مہم پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس کا ذکر بعد میں مگر پہلے بات کریں گے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے تحفظات اور خدشات کا جو سوشل میڈیا پر اس بارے میں بات کر رہے ہیں۔

'ن لیگی کارکن صرف قربانی کے‘ بکرے ہیں کیا؟

ووٹ کا تقدس ووٹ کی عمت گلا پھاڑ پھاڑ کر کہنے والے کو کوئی بتائے کہ کل اس کے ایک ووٹ کا کوئی گلا گھونٹ گیا ہے۔

اصف بٹ نے لکھا 'ووٹ کا احترام کروانے سے پہلے کارکن کا احترام کریں اور کروائیں'

واسکوڈے گاما نامی اکاؤنٹ نے لکھا 'جس طرح کا رویہ ن لیگ اپنے کارکنوں کے ساتھ رکھ رہی ہے ان کو ووٹ تو ملیں گے مگر ساتھ نبھانے والے شاید نہ ملیں۔'

ذوہیب سعید نے شکوہ کیا کہ 'کسی کو عامر کے لیے دو لفظ بولنے کی توفیق نہیں ہوئی۔'

ایک اور مسلم لیگی کارکن منصور نے لکھا کہ 'مسلم لیگ ن کی حکومت میں سب سے سستی چیز ان کا کارکن ہے۔ اٹھایا جاتا ہے، مار دیا جاتا ہے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔'

بینش نے لکھا 'جو پارٹی اپنے کارکنوں کے حق کے لیے کھڑی نہیں ہو سکتی وہ کشمیریوں پر ظلم کے خلاف اور پاکستانیوں کی عزت کی خاطر کہاں کھڑی ہوتی ہو گی؟'

حسین علی نے لکھا 'ن لیگی کارکن کو سمجھ جانا چاہیے کہ وہ صرف قربانی کے بکرے ہیں جنھیں بوقتِ ضرورت وار کے پھینک دیا جانا ہے۔'

اس کے ساتھ ہی مختلف کارکنوں نے مریم نواز شریف اور وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال کو ٹیگ کر کے ٹویٹس کیں جن میں ایک زعیم بنیامین کی تھی جنھوں نے لکھا 'میڈم اور سر اپنے کارکنوں کی بے توقیری نہ کریں میڈیا اگر خاموش ہے تو آپ تو خاموش نہ رہیں۔ کارکن ہی اصل سرمایہ ہیں۔'

'ڈینگی برادران سے ڈینگی خان تک کا سفر مکافاتِ عمل'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشاور میں ڈینگی کے بعد مچھر دانیوں کی فروخت کا کام عروج پر ہے۔

پشاور اور آس پاس کے علاقوں میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد بڑھنے کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت پاکستانِ تحریکِ انصاف کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر تبصروں میں عمران خان کی جانب سے دھرنے کے دنوں میں پنجاب کے وزیرِاعلیٰ شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو ڈینگی برادرن کہنے پر تنقید کا سامنا ہے جیسا کہ باسط فاروقی نے لکھا کہ 'ڈینگی برادران سے ڈینگی خان تک کا سفر مکافاتِ عمل کی تامہ ترین مثال ہے۔‘

جبکہ بس ساری صورتحال کے دوران عمران خان کی جانب سے مختلف پرفضا مقامات پر اتاری گئی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔

تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب حکومت کی بھجوائی گئی ٹیموں کو خوش آمدید کہنے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور اسے ایک ثبت عمل قرار دیا گیا ہے۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عید الاضحیٰ کے لیے قربانی کے اونٹ کی کھال پر اونٹ کا مالک نقش و نقار بنا رہا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشاور میں ڈینگی سے بچاؤ کے لیے سپرے کیا جا رہا ہے جہاں مچھروں کے نتجے میں بیمار ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بہت اضافہ دیکھا گیا ہے۔