ہڈیاں جوڑنے میں بائیو گلاس کا استعمال ایک اہم دریافت ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بائيو گلاس کی مدد سے ہڈیوں کا علاج آ‎ان ہوگيا ہے

انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے طبی سائنس میں مسلسل نئے نئے تجربے ہو رہے ہیں، انھیں تجربات میں سے ایک اہم بائیوگلاس کا امپلانٹ بھی ہے۔

یعنی ہڈیوں کو جوڑنے میں قدرتی گلاس کا استعمال۔ ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے کانچ کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ سننے میں یہ بات تھوڑی عجیب ضرور لگ سکتی ہے لیکن اس وقت بہت سے ممالک میں ڈاکٹر بائيوگلاس کی مدد سے ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جوڑنے کا کام کر رہے ہیں۔

اس کانچ کا استعمال اس مقصد کے لیے ہورہا ہے وہ کوئی معمولی گلاس نہیں ہے۔ یہ بائیو گلاس بہت ہی خاص ہے۔ یہ نہ صرف ہڈیوں سے زیادہ مضبوط ہے بلکہ لچکدار ہونے کی سبب مڑ بھی سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے کوئی انفیکشن بھی نہیں ہوتا ہے۔

لندن کے معروف سرجن ایان تھامسن نے دنیا کا سب سے پہلا گلاس امپلانٹ کیا تھا۔ انھوں نے پہلی بار یہ تجربہ ایک مریض کی آنکھ میں بائیو گلاس کی پلیٹ ڈال کر کیا تھا۔

ایک حادثے میں اس مریض کی آنکھ میں چوٹ لگ گئی تھی اور انھیں دیکھنے میں کافی مشکل ہوتی تھی۔ ڈاکٹروں نے تمام کوششیں کیں، لیکن ہر کوشش ناکام رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption قدرتی کانچ کا استعمال دانتوں کی مرمت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے

تقریبا 15 سال پہلے ایان تھامسن نے اس مریض کی آنکھ میں بائیوگلاس کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ڈال کر ایک نیا تجربہ کیا۔ اس وقت سے وہ مریض نہ صرف صحت مند ہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے اچھی طرح دیکھ بھی سکتے ہیں۔

جب یہ تجربہ کامیاب رہا تو ایان تھامسن نے سوچا، کیوں نہ جسم کے دوسرے ٹوٹے پھوٹے اعضا کو درست کرنے کے لیے اس کانچ کیا جائے۔ پروفیسر تھامسن نے بائیوگلاس کے امپلانٹ کی مدد سے ایسے تقریبا 100 مریضوں کا علاج کیا ہے جو حادثے کا شکار ہوئے تھے۔

پروفیسر تھامسن کے مطابق، بائیوگلاس کا امپلانٹ کئی بار مریض کی اپنی ہڈی سے بھی بہتر کام کرتا ہے۔ بائیوگلاس کا امپلانٹ جسم آسانی سے اپنا لیتا ہے جس کی وجہ سے ہڈیوں اور پٹھوں کے درمیان ایک اچھی مطابقت پیدا ہوتی ہے اور نئی ہڈیوں کے پنپنے کے لیے خلیوں کی پیداوار شروع ہوجاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

سنہ 1969 میں امریکی سائنس دان لیری ہانک نے بائیوگلاس کو درمیافت کیا تھا۔ انھوں نے اس کی تحقیق کا کام امریکہ میں شروع کیا تھا لیکن بعد میں وہ لندن منتقل ہوگئے تھے، جہاں ڈاکٹر اس وقت سب سے زیادہ بائيوگلاس کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کا استعمال ہڈیوں کے علاج سے لے کر دانتوں کا علاج کرنے اور نئے دانت بنانے تک میں ہوتا ہے۔

تقریباً دس برسوں تک بائیوگلاس کا استعمال پاؤڈر کی شکل میں ہوتا تھا۔ اس کی پٹی بنا کر فریکچر ٹھیک کیا جاتا تھا۔ سنہ 2010 کے بعد سے سینسوڈائین نامی کمپنی نے ٹوتھ پیسٹ میں بھی اس کا استعمال شروع کر دیا تاکہ ٹوٹے پھوٹے دانتوں کی یہ مرمت کر سکے۔

طبی سائنس کی دنیا میں بائیوگلاس کی ایجاد ایک انقلاب کی طرح ہے۔ بہت سے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے لیکن ابھی جس بلندی تک پہنچا جا سکتا ہے وہاں تک رسائی نہیں ہوپائی ہے۔ حالانکہ بائیوگلاس کی مدد سے بہت سے نئی چیزیں بنائی جا رہی ہیں۔

اب بہت ہی لچکدار قسم کے بائيوگلاس بھی بنائے جا رہے ہیں جو پیروں کی چکنا چور ہوچکی ہڈیوں کو بھی درست کرنے کے لیے استعمال میں آسکتے ہیں۔

یہ بائیو گلاس مریض کے جسم کا مکمل بوجھ لینے کے قابل ہوتے ہیں اور مریض بغیر بیساکھی کے استعمال کے بھی چل سکتا ہے۔ اس کے استعمال کے بعد، مریض پر کسی بھی قسم طرح کی پن یا کسی دوسری پلیٹ کو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی مدد سے ہڈی کے نئے خلیے بننے میں آسانی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر تمام قسم کے تجربات کامیاب رہے تو ہوسکتا ہے کہ آنے والے دس برسوں کے اندر ایسا ہو کہ کوئی شخص محض ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے زندگي بھر معذور نہیں رہے

لچکدار بائیوگاس کے سات ساتھ ایسے بائیوگلاس بھی ہیں جو بالکل ربڑ کی طرح نظر آ تے ہیں۔ فی الحال، سرجن ان کا استعمال کولہے اور گھٹنوں کے فریکچر کو ٹھیک کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ تاہم بعض محققین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ابھی زیادہ کامیاب نہیں ہے۔ اس کا استعمال بعض پہلوانوں پر کیا گیا تھا، لیکن چند سالوں کے بعد ان کی تکلیف پھر سے ابھر آئی۔

لیکن اب اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بھی کوششیں ہورہی ہیں۔ لندن میں امپیریئل کالج کی ڈاکٹر جولین جانز ایک ایسی تھری ڈی تکنیک کو فروغ دینے پر کام کررہی ہیں جس نرم ہڈیوں کو جوڑنے کا کام بھی آسان ہوسکے۔ اس کا پہلا تجربہ جانوروں پر کیا جاتا ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو پھر اسے کلینک میں آزمایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر جونز کا کہنا ہے کہ ابھی تک نازک ہڈیوں کو جوڑنے کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے لیکن بائیوگلاس کی دریافت نے اسے آسان بنا دیا ہے۔

اس سلسلے میں اگر تمام قسم کے تجربات کامیاب رہے تو ہوسکتا ہے کہ آنے والے دس برسوں کے اندر ایسا ہو کہ کوئی شخص محض ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے زندگي بھر معذور نہیں رہے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں