جلن کی نئی دوا سے دل کے دورے کا خطرہ کم لیکن جان لیوا انفیکشن میں اضافے کا امکان

دوا تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

محقیقن کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق جلن دور کرنے کی نئی دوا استعمال کرنے سے دل کے دورے اور فالج کے حملے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق دس ہزار مریضوں کا چار سال تک جائزہ لے کر مرتب کی گئی ہے۔ اس میں انھیں ’کاناکنماب‘ نامی دوا دی گئی۔ تحقیق کے مطابق یہ دریافت مریضوں کے لیے نہایت فائدے مند ثابت ہوگی۔

زندگی بچانے والی دوا جسے دنیا بھول گئی تھی

ایچ آئی وی: ’انقلابی‘ دوا کے تجربات شروع

لیکن ساتھ ساتھ اس تحقیق میں یہ بھی نظر آیا کہ اس دوا کو استعمال کرنے والوں میں جان لیوا انفیکشن ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

ہارورڈ میڈیکل سکول کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر پال رڈگر نے کہا کہ 'یہ پہلا موقع ہے کہ ہم واضح طور پر یہ دکھا سکتے ہیں کہ کولیسٹرول سے تعلق قائم کیے بغیر جلن کم کرنے کی دوا دل کے دورے میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔'

تحقیق کے مطابق اس دوا کے استعمال سے دل کے دورے میں 15 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ تاہم کئی ناقدین نے اس پر اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے اور اس کی تاثیر، مضر اثرات اور قیمت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

البتہ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے اس تحقیق کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی مدد سے کئی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL

دل کے مریضوں کو اکثر اوقات کولیسٹرول کم کرنے اور خون پتلا کرنے کی ادویات دی جاتی ہیں۔ اس تحقیق میں وہ دس ہزار مریض جنھیں ماضی میں دل کا دورہ پڑا تھا ان کو یہ دوا ہر تیسرے مہینے دی گئی۔

چالیس ممالک میں تحقیق چار سال تک جاری رہی جہاں مریضوں کی نگرانی کی جاتی رہی۔ اس کے نتائج کے مطابق مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ واضح طور پر کم ہوا۔

تحقیق کے نتائج سپین کے شہر بارسلونا میں یورپین سوسائٹی آف کارڈیولوجی کی کانفرنس میں پیش کیے گئے۔

دوائیں بنانے کی کمپنی نوارٹس نے اس تحقیق کی مد میں رقم دی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں