انڈیا: نوزائیدہ بچے کو غلطی سے مردہ قرار دینے والے دو ڈاکٹر برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹروں کی لاپروائی کے واقعے کے بعد انڈیا میں نجی ہسپتالوں میں ہیلتھ کیئر کی کوالٹی پر بحث چل پڑی ہے

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں ایک ہسپتال نے دو ڈاکٹروں کو غلطی سے ایک نوزائیدہ بچے کو مردہ قرار دینے پر برطرف کر دیا ہے۔

نجی ہسپتال میکس کے ڈاکٹروں نے 30 نومبر کو ایک مردہ بچے کی پیدائش کے بعد پیدا ہونے والے جڑواں بچے کو مردہ قرار دیا تھا۔

جب بچے کے والدین اس کی آخری رسومات کے لیے جا رہے تھے تو انھیں راستے میں پتہ چلا کہ بچہ زندہ ہے۔

اس واقعے پر لوگوں نے غم و غصے کا اظہار کیا اور انڈیا میں ایک بار پھر مہنگے پرائیوٹ ہسپتالوں میں ہیلتھ کيئر کے معیار پر بحث چل پڑی۔

میکس ہسپتال نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'ماہرین سے بنیادی غور خوض کرنے کے بعد یہ سخت کارروائی کی گئی ہے۔

'ابھی اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جن میں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے بیرونی ماہرین بھی شامل ہیں لیکن ہم نے علاج کرنے والے دونوں ڈاکٹروں کی خدمات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔'

یہ بھی پڑھیں

٭ ’آخری رسومات کے راستے میں بچے کی لاش زندہ نکلی‘

٭ ’میری بچی زندہ ہے، اسے مجھ سے چرا لیا گیا'

اس معاملے میں حکومت کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق جڑواں بچے کے دادا نے کہا کہ صدمے کے مارے اہل خانہ بھاگ کر اپنے نوزائيدہ کو پاس کے ہسپتال میں لے گئے جہاں انھیں یہ بتایا گیا کہ بچہ ابھی زندہ ہے۔

حالیہ مہینوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے جب ہندوستان کے کسی نجی ہسپتال پر لاپروائی برتنے کا الزام لگا ہے۔ گذشتہ ماہ ایک دوسرے ہسپتال میں ایک بچی کی ڈینگی بخار سے موت ہو گئی تھی، جس کے بعد بچی کے والدین نے ہسپتال پر علاج کے لیے زیادہ پیسہ لینے کا الزام لگایا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں