فنگس کی بیماری سے سانپوں کے بقا خطرے سے دوچار

سانپ تصویر کے کاپی رائٹ USGS NATIONAL WILDLIFE HEALTH CENTER/D.E. GREEN
Image caption سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فنگس سے لگنے والی اس بیماری سے سانپوں کے مرنے کی شرح بعض کیسوں میں 100 فیصد ہے

ایک نئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ فنگس (ایک قسم کی پھپھوندی) سے لگنے والی ایک بیماری سے پوری دنیا کے سانپوں کی بقا کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

امریکہ میں سانپوں کی 23 نسلوں اور یورپ میں تین نسلوں میں یہ فنگس بیماری پھیلا رہی ہے۔ اس سے متاثرہ سانپوں کے جسم پر زخم بن جاتے ہیں اور وہ انفیکشن کا شکار ہو کر مرجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کھلونا سانپ پکڑنے کے لیے مدد طلب

’نہیں میں نے سانپ کے ساتھ شادی نہیں کی‘

نشے کے عادی سانپ کا علاج

'سائنسز ایڈوانس' نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تمام سانپ اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اس سے پہلے فنگس کی بیماریاں مینڈک اور چمگادڑوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنا چکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ USGS NATIONAL WILDLIFE HEALTH CENTER/D.E. GREEN
Image caption تحقیق کار بتاتے ہیں کہ اس بیماری سے سانپوں کے جسم پر چھالے پڑ جاتے ہیں جن سے انھیں انفیکشن ہو جاتا ہے اور وہ بہت جلد مر جاتے ہیں

سائنس دانوں نے اس نئی بیماری کو فنگل سنیک ڈیزیز کا نام دیا ہے۔ متاثرہ سانپ کے جسم پر زخم بن جاتے ہیں جو جلد ہی سارے بدن پر پھیل جاتے ہیں۔ سانپ اپنی کینچلی اتار کر اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انھیں ہر بار کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر فرینک برنبرنک نے بی بی سی کو بتایا: 'سانپوں کے جسم پر چھالے پڑ جاتے ہیں جن سے انھیں انفیکشن ہو جاتا ہے اور وہ بہت جلد مر جاتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ اس بیماری سے مرنے کی شرح بعض کیسوں میں 100 فیصد ہے۔

بیمار سانپوں کا رویہ بھی بدل جاتا ہے اور وہ دھوپ میں پڑے رہتے ہیں جہاں سے وہ زیادہ آسانی سے شکاری جانوروں کی نظروں میں آ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ USGS NATIONAL WILDLIFE HEALTH CENTER/D.E. GREEN
Image caption سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس مرض کی شدت کا اندازہ لگا رہے ہیں

بیماری کے پھیلاؤ کا اندازہ لگانے کے لیے سائنس دانوں نے ارتقائی تاریخ، ماحولیات اور بیمار سانپوں کے تجزیے سے ایک ماڈل وضع کیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ امریکہ میں پائے جانے والے سانپوں کے تمام 98 خاندان متاثر ہو سکتے ہیں اور اس بیماری کے دنیا بھر میں پھیلنے کا خطرہ ہے۔

ڈاکٹر برنبرک نے کہا: 'ابھی بہت سے سوالیہ نشانات باقی ہیں۔ ہم اس مرض کی شدت کا اندازہ لگا رہے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ حالات خراب ہیں، لیکن کس حد تک خراب، اس کا اندازہ لگانا ابھی باقی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں