جب پالتو کتے قاتل بن جاتے ہیں!

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ CBS

کتا انسان کا وفا دار ترین دوست شمار کیا جاتا ہے۔ قدیم ہی سے انسان کتے پالتا آیا ہے۔ کتوں کی وفاداری ضرب المثل ہے۔ خواجہ سگ پرست ایک ایسے ہی کردار تھے جو انسانوں پہ کتوں کو اولیت دیتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک کتے انسان سے زیادہ وفادار تھے۔ بلھے شاہ بھی کتوں کو انسانوں سے زیادہ وفادار کہتے تھے،

راتیں جاگن کرن عبادت

راتیں جاگن کتے

تیتھوں اتے

اسی وفادار ترین جانور نے چند روز پہلے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں اپنی 22 سالہ مالکہ کو نہ صرف ہلاک کر دیا بلکہ اس کا گوشت بھی کھا گئے۔ یہ بلا شبہ خوفناک واقعہ ہے لیکن مجھے اس واقعے پہ حیرت نہیں ہوئی۔

میں نے ساری عمر، مختلف، رنگ و نسل کے کتے پالے، جن میں کچھ بہت اعلیٰ بدیسی نسل کے کتے بھی تھے اور کچھ مقامی اوربد نسل بھی ۔ مجھے کتوں کی ایک حیرت انگیز نفسیات کاعلم ہوا کہ کتے صرف اسی وقت تک وفادار ہوتے ہیں جب تک ان کو کمتر کے طور پہ رکھا جائے۔

جانے کتوں کی نفسیات جاننے والے اور ان کو تربیت دینے والے اس بارے میں کیا کہیں گے لیکن میرا ذاتی تجربہ یہ کہتا ہے کہ کتا جب تک مالک کو خود سے برتر سمجھتا رہتا ہے، اس وقت تک وہ پہرہ دیتا ہے، مالک کے پاؤں چاٹتا ہے اور دم ہلاتا ہے۔ لیکن اگر وہ مالک کو کمتر سمجھ کے خود کو پیک لیڈر یا جغادری سمجھنے لگے تو اس سے خوفناک ہی کوئی نہیں ہوتا۔

انسانوں پہ کتوں کے حملے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ہمارے شہر میں ایک متروکہ عمارت کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں کسی زمانے میں پوسٹ مارٹم ہوتے تھے اور انسانی اعضا، کوڑے پہ پھینک دیے جاتے تھے، جس کی وجہ سے وہاں کے کتے آ دم خور ہوگئے تھے۔ اس کہانی کے پیچھے بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا جس میں کچھ آوارہ کتوں نے ایک بچی کو مار کر کھا لیا تھا۔

آوارہ کتوں کے گروہ اکثر بچوں بوڑھوں پہ حملہ کر دیتے ہیں۔ یوں بھی کتے اپنے مالک کے علاوہ ہر شخص پہ بھونکنے کے عادی ہوتے ہیں لیکن اپنے مالک کو کاٹنے والے کتے خال ہی نظر آتے ہیں۔

ایک زمانے میں میرے پاس، جیک نامی ایک کتا تھا۔ جیک نہایت میسنا اور چاپلوس کتا تھا، پیروں میں لوٹنا اور دم ہلاہلا کے گرد کے بادل اٹھا دینا اس کا روز کا معمول تھا۔ لیکن یہ ہی جیک جب پیٹ بھر جاتا تھا تو نہایت عیاری سے دانت نکوسے چپکے چپکے میرے ٹخنوں پہ کاٹنے کی فکر میں پیٹ زمین سے چپکائے گھسٹتا ہوا تاک میں چلا آ تا تھا، ایسا ایک بار نہیں بارہا ہوا۔

جیک کے علاوہ میں نے ایک روٹ وائیلر کتیا کو دیکھا کہ اپنے بچے کھا گئی۔ اسے رہنے کو جو جگہ ملی تھی، وہ شاید مناسب نہ تھی یا کوئی اور وجہ رہی ہو گی۔ یہ امر بھی میرے لیے بہت حیرت کا باعث تھا کیونکہ کتیا اپنے بچوں سے بہت محبت کرتی ہے اور ان کے لیے بڑے سے بڑے دشمن کے آ گے ڈٹ جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پٹ بل نسل کے کتے یوں بھی بہت طاقتور ہوتے ہیں اور اگر جوڑی کی شکل میں ہوں تو بہت خطر ناک ثابت ہوتے ہیں۔ ان کے جبڑے نہایت بھیانک اور ان جبڑوں کی پکڑ نہایت مضبوط ہوتی ہے۔ جوڑی کی صورت میں یہ اپنے شکار کو گھیر لیتے ہیں اور بھاگنے کا موقع نہیں دیتے۔ یہ نسل، دو خوفناک نسلوں کے کراس سے بنائی گئی تھی اور زیادہ تر کتوں کی لڑائی کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔

کتے پالتے ہوئے ہمیشہ ان نسلوں کا انتخاب کریں جو کم خونخوار ہوں، خاص کر ایسے گھر جہاں بچے اور بوڑھے موجود ہوں، وہاں روٹ وائیلر، پٹ بل، جرمن شیفرڈ، ڈوبر مین، وغیرہ رکھنے سے اجتناب کریں۔ کتوں کے چاہنے والے کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ کتے ان کے گھر والوں کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

مگر میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہی ہے کہ انسان کی طرح جانور بھی قطعاً قابلِ اعتبار نہیں ہوتا۔ جب تک طاقت کا توازن قائم رہے، کتا ، کتا رہتا ہے اور مالک مالک، ورنہ نظر چوکی اور یہ ظالم اپنے مربی کی ہڈیاں تک چبا جاتا ہے۔

پسِ نوشت : یہ کالم کتوں کے بارے میں ہی تھا اور اسے اسی تناظر میں پڑھا جائے ۔ شکریہ!

اسی بارے میں