’سائیکل چلانے سے مردوں کی جنسی صحت کو نقصان نہیں پہنچتا`

Man cycling تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مطالعے سے پتا چلا ہے کہ سائیکل چلانے سے مردوں کی جنسی صحت اور مثانے پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔

محققین نے سائیکل سواروں کی جنسی اور مثانے کی صحت کا تقابل تیراکوں اور دوڑنے والوں کے ساتھ کیا اور پایا کہ ان سب کی صحت ایک جیسی ہی ہے۔

اس سے پہلے ایک مطالعے میں کہا گیا تھا کہ سائیکل چلانے سے مردوں کی جنسی صلاحیت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

اس نئے مطالعے کے مصنف کا کہنا تھا کہ ’سائیکل چلانے کے فوائد نے تمام خدشات کو ختم کر دیا ہے۔‘

برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے 2774 سائیکل سواروں کا سروے کیا گیا۔ جبکہ سروے میں 539 تیراک اور 789 دوڑنے والے لوگ شامل تھے۔

ان سے ان کی جنسی صحت اور مثانے کے نظام سے متعلق سوالات کیے گئے۔

ان گروہوں میں جنسی صحت اور مثانے کے نظام کے نتائج لگ بھگ ایک جیسے تھے تاہم کچھ سائیکل سواروں میں پیشاب کی نالی کے سکڑاؤ کی شکایت تھی۔

ان میں زیادہ اور کم سائیکل چلانے والوں میں بھی کوئی خاص فرق نہیں تھا۔

یورولوجی نامہ جریدے شائع تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان کے نتائج ماضی کی اس تحقیق کی نفی کرتے ہیں جس کے مطابق سائیکل چلانے سے جنسی عمل کی صلاحیت پر منفی اثر پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تازہ مطالعے کے محقق بینجمن بریئر کا کہنا تھا کہ ’سائیکلنگ سے دل تک جانے والی خون کی وریدوں کو بے مثال فائدہ پہنچتا ہے اور جوڑوں پر بھی کا اثر ہوتا ہے۔‘

مطالعے کے مطابق اگرچہ سائیکل چلانے کے دوران اعضائے تناسل کے بے حس یا سُن ہونے کا مسئلہ پیش آتا ہے لیکن اگر سائیکلنگ کے دوران 20 فیصد وقت اگر کھڑا ہو کر گزارا جائے تو اسے کم بھی کیا جا سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل مںی اپنے تحقیق کے دوران ان لوگوں کے معاملے کا بغور مطالعہ کریں گے جوسُن یا بے حس ہونے کی شکایت کرتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ کہیں یہ مسئلہ یہ مستقبل میں کسی مشکل کی نشاندہی تو نہیں کرتا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں