’شادی اور طلاق سے وزن بڑھتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ’شادی سے متعلق تمام تبدیلیاں وزن میں معمولی اضافے کی وجہ بنتی ہیں‘

ایک امریکی تحقیق کے مطابق شادی اور طلاق دونوں متعلقہ فرد کے وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

امریکی سوشیالوجیکل ایسوسی ایشن میں پیش کی جانے والی تحقیق کے مطابق شادی یا طلاق کے دو سال کے عرصے کے دوران وزن میں اضافے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

دس ہزار اکہتر افراد پر کی گئی اس تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ نوبیاہتا خواتین کے وزن بڑھنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔

اوہایو سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق میں سنہ انیس سو چھیاسی سے سنہ دو ہزار آٹھ کے دوران لوگوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کے بی ایم آئی میں آنے والی تبدیلیوں پر نظر رکھی گئی۔

محققین نے شادی کرنے یا طلاق لینے والے افراد کے بی ایم آئی کا تقابل ایسے افراد کے بی ایم آئی سے کیا جو یا تو کنوارے یا پہلے سے شادی شدہ تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر فرد کی صحت، تعلیم، روزگار،غربت اور حمل کے ڈیٹا کو جانچنے کے بعد شادی اور طلاق سے وزن بڑھنے کے تعلق کا پتہ چلا۔

خواتین میں شادی کے بعد وزن میں معمولی اضافے کے امکانات میں تینتیس فیصد اور زیادہ اضافے کے امکانات میں اڑتالیس فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح طلاق لینے والی خواتین کے وزن میں معمولی اضافے کے امکان کی شرح بائیس فیصد رہی۔

مردوں میں اٹھائیس فیصد میں شادی کے بعد وزن میں اضافے کا امکان پایا گیا جبکہ طلاق کے بعد یہ شرح اکیس فیصد رہی۔

اس تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ ’شادی سے متعلق تمام تبدیلیاں وزن میں معمولی اضافے کی وجہ بنتی ہیں‘۔ اس تحقیق کی مرکزی نگران دمیتری تیومن کا کہنا ہے کہ ’کسی حد تک خواتین میں شادی کے بعد وزن بڑھتا ہے جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں