آرکٹک میں دو اہم بحری راستے کھل گئے

Image caption ان بحری راستوں پر تجارتی اداروں کی ابھی سے نظر ہے

یورپی مواصلاتی سیاروں سے کی گئی تصاویر کے مطابق قطب شمالی کے علاقے آرکٹک میں دو اہم بحری راستے برف پگھلنے کے باعث کھل گئے ہیں۔

یورپی خلائی ادارے کے ’اینوی سیٹ‘ نامی مواصلاتی سیارے کی مدد سے ریکارڈ کی گئی انفارمیشن کے مطابق کینیڈا کی شمال مغربی گزرگاہ اور روس کا شمالی سمندری راستہ برف کے پگھل جانے کی وجہ سے ایک ساتھ کھل گئے ہیں۔

رواں سال موسم گرما میں شدت کے باعث ہو سکتا ہے کہ سنہ انیس سو اناسی میں مواصلاتی سیاروں کے دورِآغاز کے بعد اس سال زمین پر سب سے کم بحری برف رہ جائے۔ ان بحری راستوں پر تجارتی اداروں کی ابھی سے نظر ہے۔

اگرچہ اب سے پہلے بھی قطب شمالی کے راستوں کو استعمال کیا جا چکا ہے لیکن رواں ماہ شمالی بحری گزرگاہ میں برف کے نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر قدرتی گیس بردار جہازوں نے اس راستے کو استعمال کیا۔

برطانیہ میں یونیورسٹی آف کیمرج کے ماہرِ قطب شمالی پیٹر ویڈ ہیمز کا کہنا ہے ’یہ دونوں راستے اکثر ایک ساتھ کھلے ہوتے ہیں یعنی کچھ مشکلات کا سامنا کر کے ان کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’لیکن اس مرتبہ یہ راستے واقعی کھل گئے ہیں اور سامان سے لدے ہوئے ایک بڑے ٹینکر نے انھیں استعمال کیا ہے اور یہ آگے کی جانب ایک قدم ہے۔‘

بیشتر بڑی تجارت کرنے والی کمپنیاں ان راستوں کے کھل جانے کے انتظار میں ہیں تاکہ کم فاصلوں سے فائدہ اٹھا کر منافعے میں اضافہ کیا جا سکے۔

لیکن ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں فکرمند ہیں کہ برف کے لگاتار پگھلنے سے تیل اور گیس نکالنے کے لیے مزید اقدامات لیے جائیں گے اور یہ ان کے بقول قطب شمالی کے ماحول کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مزید تیل اور گیس کے نکالے جانے سے ظاہر ہے انسان کا ان پر انحصار بھی مزید بڑھ جائے گا اور اس سے گلوبل وارمنگ بڑھے گی، جس کے نتیجے میں پہلے کی نسبت زمین پر زیادہ تیزی سے برف پگھلے گی۔

قطب شمالی میں اس سال برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے اور کچھ دیر کے لیے تو ایسا لگ رہا تھا کہ دو ہزار سات کا دنیا میں کم ترین بحری برف کا رکارڈ ٹوٹ جائے گا۔

ڈینش موسمياتی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر سائنسدان لیف ٹوڈل پیڈرسن کا کہنا ہے ’برف کی سب سے کم مقدار ابھی تین چار ہفتے دور ہے اور اس کا انحصار آئندہ موسم کی صورتحال پر ہے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ تو معلوم نہیں کہ اس سال برف کے کم رہ جانے کا نیا ریکارڈ قائم ہو گا یا نہیں لیکن ایک بات واضع ہے اور وہ یہ کہ ہر سال موسم گرما میں زمین پر پائی جانے والی برف کی مقدار پہلے سے کم ہو رہی ہے۔‘

اسی بارے میں