’روز ایک جام، خواتین بڑھاپے میں صحت مند‘

تصویر کے کاپی رائٹ elvis

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق شام میں شراب کے ایک جام سے لطف اندوز ہونے والی خواتین عمر رسیدہ ہونے تک صحت مند رہتی ہیں۔

پلوس میڈیسن جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق شام میں پی جانے والی شراب میں بیر کا ایک ڈبہ، وائن کا ایک گلاس یا سپرٹ کا ایک معیاری ڈرنک یا جام ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران چودہ سو خواتین کا مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ جو خواتین معتدل مقدار میں شراب نوشی کرتی ہیں وہ ستر سال کی عمر تک پہنچے تک ان خواتین کے مقابلے میں زیادہ صحت مند رہتی ہیں جو بہت زیادہ شراب نوشی یا اس سے پرہیز کرتی ہیں۔

امریکی سائنسدانوں کی اس تحقیق کے مطابق پچاس سال کی عمر کے بعد جو خواتین روزانہ پندرہ سے تیس گرام الکوحل یا ایک سے دو ڈرنک لیتی ہیں، ان میں شراب نوشی نہ کرنے والی خواتین کے برعکس ستر سال یا اس کے بعد بھی صحت مند رہنے کے اٹھائیس فیصد زیادہ امکانات ہوتے ہیں، اس میں عام صحت کا اچھا ہونا، کینسر، زیابیطس کا نہ ہونا اور دل کی بیماریوں سے دور رہنا شامل ہے۔

جو خواتین ایک ہفتے کے دوران پانچ سے سات بار شراب نوشی کرتی ہے اس کے بڑھاپے میں ان خواتین کے مقابلے میں صحت مند رہنے کے امکانات دگنے ہوتے ہیں جو شراب نوشی سے اجتناب کرتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ صرف الکوحل کے استعمال کی وجہ سے فوائد حاصل ہوئے یا اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے صحت مند رہنے میں ان کے طرزِ زندگی کے دیگر عوامل کا بھی اس میں عمل دخل ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مشاہدے کے دوران انھوں نے دیگر عوامل جیسا کہ سگریٹ نوشی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ نتائج پر اثر انداز نہ ہوں۔

برطانیہ میں کی جانے والی دوسری تحقیقات کے مطابق روزانہ تجویز کردہ دو سے تین ڈرنک لینے سے خواتین میں دل کی بیماریوں اور صحت کے دیگر مسائل کم ہو جاتے ہیں تاہم خواتین میں چھاتی کے سرطان کو شراب نوشی سے منسوب کیا جاتا ہے۔

برطانیہ کی ہاٹ فاؤنڈیشن کی اہلکار نتاشا سٹیورٹ کا کہنا ہے کہ ’اعتدال سے شراب نوشی کرنے سے ہو سکتا ہے کہ خاص طور پر خواتین کو دل کی بیماریوں سے کچھ تحفظ ملے، لیکن کثرت سے شراب نوشی کرنے سے دل کی بیماری، فالج، بلڈ پریشر ہو سکتا ہے اور اگر آپ پہلے سے شراب نوشی نہیں کرتے ہیں تو اس کو اب شروع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں