چین میں بچوں کی شرح اموات نصف: تحقیق

Image caption چین میں نومولود بچوں کی شرحِ اموات میں پچاس فیصد کمی آئی ہے۔

چین میں خواتین کو ہسپتالوں میں بچے پیدا کرنے کی جانب مائل کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم کے باعث نومولود بچوں کی اموات کی شرح میں پچاس فیصد کمی آئی ہے۔

دی لینسیٹ میں کی گئی تحقیق کے مطابق، بیجنگ اور لندن کے تحقیق کاروں کو تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو پہلے ماہ میں فوت ہونے کا خطرہ گھروں میں پیدا ہونے والے بچوں سے دو سے تین گنا کم ہوتا ہے۔

تحقیق میں سنہ انیس سو چھیانوے سے سنہ دو ہزار آٹھ کے دوران چین میں پیدا ہونے والے پندرہ لاکھ بچوں کا تجزیہ کیا گیا۔

چین میں سنہ دو ہزار سے مہم چلائی جارہی ہے جس میں خواتین کو مائل کیا جارہا ہے کہ وہ ہسپتال میں ولادت کرائیں۔ اس مہم کے باعث تقریباً تمام ہی بچے ہسپتال میں پیدا ہورہے ہیں سوائے ان علاقوں کے جو دور افتادہ اور غریب ہیں۔

پیکنگ یونیورسٹی اور لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کی ٹیم نے چین کے میٹرنل اینڈ مارٹیلٹی سرویلینس سسٹم کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جس میں نومولود میں اموات کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پہلے ماہ کے دوران نومولود بچوں کی شرح اموات میں بارہ سال کے دوران سنہ دو ہزار آٹھ تک باسٹھ فیصد کمی آئی ہے۔

چین میں نومولود بچوں کی شرح اموات جو سنہ انیس سو چھیانوے اور انیس سو اٹھانوے کے دوران ہر ایک ہزار بچوں میں چوبیس اعشاریہ سات تھی، سنہ دو ہزار سات اور آٹھ میں یہ شرح کم ہوکر ہر ایک ہزار بچوں میں نو اعشاریہ تین رہ گئی۔

چین کے شہری علاقوں میں ہسپتال میں پیدا ہونے والے ہر ایک ہزار بچوں میں پانچ بچے مر جاتے ہیں جبکہ گھروں میں پیدا ہونے والے بچوں میں یہ شرح سترہ ہے۔

لندن سکول آف ہائی جین کے پروفیسر کیرائن رانسمینس کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کو بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے کے لیے چین سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ پیدائش کے دوران ہسپتالوں میں بہتر سہولیات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اسی بارے میں