’پرسرار تاریک مادّے کا نظریہ شایدغلط ہے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ ESO
Image caption تاریک مادّوں کی موجودگی میں کہکشائیں اپنے معمول کے انداز میں نہیں بن پاتیں۔

سائنسدانوں کو شاید اپنا یہ نظریہ تبدیل کرنا پڑے جس کے مطابق پرسرار ڈارک میٹر یا سیاہ مادہ جو زیادہ تر کائنات کی تخلیق کا باعث بنا۔

چھوٹی کہکشاؤں پر کی گئی تحقیقات میں معلوم ہوا تھا کہ تاریک مادّوں کی موجودگی میں یہ اپنے معمول کے انداز میں نہیں بن پاتیں۔

ماہر کائینات کارلوس فرینک نے اس تحقیق کے بارے میں بریڈ فورڈ میں ہونے والے برطانوی سائنسی میلے میں بتایا۔

حالیہ نظریے کے مطابق چار فیصد کائنات عام مادے سے بنی ہے جس میں ستارے، سیّارے اور انسان شامل ہیں جبکہ اکیس فیصد کے قریب کائنات تاریک مادّوں پر مشتمل ہے باقی بچ جانے والا حصہ تاریک توانائی کہلاتا ہے۔

کائنات کی تخلیق اور ساخت سے متعلق سائنسدانوں کے بہترین تصورات کو’ کوسمولوجیکل سٹینڈرڈ ماڈل‘ یا lambda-CDM کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بنیادی ذرّات درحقیقت سرد تاریک مادے ہیں۔

یہ سی ڈی ایم ذرات وہ ہیں جنہیں کائنات میں ابتدائی دور کی تخلیق مانا جاتا ہے جو بگ بینگ کے بعد ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصہ میں بنے اور یہ اس صورت میں سرد ہیں کہ ایک نظریے کے مطابق ان کی رفتار تیز نہیں ہے۔

ماہر کائینات کارلوس فرینک کا کہنا ہے کہ ’پہلے سے موجود اعداد و شمار اور ہمارے مشاہدے میں پایا جانے والا فرق بنیادی ہے وہ یہ کہ سی ڈی ایم کا کوئی وجود نہیں اور سٹینڈرڈ ماڈل کے اس سے متعلق نظریہ بھی غلط ہیں۔‘

پروفیسر فرینک کا کہنا ہے کہ پینتس برس تک سٹینڈرڈ ماڈل کے نظریے کے مطابق کائنات کی بناوٹ کے نتائج پر کام کرنے کے بعد انہوں نے اپنی نیند کھو دی ہے۔

اسی بارے میں