سڑک کنارے نصب بم کی تلاش لیزر سے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان میں آدھے سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکتیں سڑک کنارے نصب بموں سے ہوئی ہیں

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسی لیزر ایجاد کی ہے جس کی مدد سے آتش گیر مادے کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق ہر مالیکیول کی ایک انفرادی ’فریکوئنسی‘ ہوتی ہے اور اسی بِنا پر یہ لیزر مالیکیول کو حرکت دے کر بم وغیرہ کی شناخت کر سکتی ہے۔

امریکہ کی مِشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کی ٹیم کی طرف سے کی جانے والی اِس تحقیق کا اولین مقصد افغانستان میں سڑک کنارے نصب بموں یعنی ’امپرو وائزڈ ایکسپلوسو ڈیوائس‘ کا پتا لگا کر فوجی ہلاکتوں میں کمی لانا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں آدھے سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکتیں ایسے ہی دیسی ساخت کے سڑک کنارے نصب بموں سے ہی ہوئی ہیں۔

اس لیزر کو بنانے والے ڈاکٹر مارکوس ڈینٹس کا کہنا ہے کہ ہمارے ماحول میں کچھ ایسے کیمیائی عناصر موجود ہیں جن کی وجہ سے امپرو وائزڈ ایکسپلوسو ڈیوائس کا پتا لگانا ہمیشہ سے مشکل تھا۔

ان کا کہنا تھا ’مالیکیول کی بناوٹ کے متعلق معلومات ہونا ضروری ہے تاکہ بم وغیرہ کا پتہ لگایا جا سکے اور عمارتوں وغیرہ میں موجود لوگوں کو جھوٹ موٹ کے بم پھٹ جانے کے اندیشوں کے سبب کسی قسم کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے‘۔

یہ لیزر شعاع ایک مخصوص فاصلے سے کسی بھی چیز کی کیمیائی بناوٹ کا معائنہ کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر مارکوس کا کہنا تھا ’اس ایجاد کو تشکیل دینے میں جو طریقہ ہم نے اپنایا ہے وہ بنیادی طور پر خوردبین کے لیے تھا۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ایجاد کی ٹیکنالوجی کے متعلق وہ فی الوقت مزید معلومات نہیں فراہم کر سکتے کیونکہ یہ حساس نوعیت کا منصوبہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم بس اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ یہ لیزر دور سے آتش گیر مادے کا پتا لگا سکتی ہے‘۔

یہ تحقیق ’اپلائڈ فزیکل لیٹرز‘ نامی جرنل میں شائع کی گئی ہے۔

اسی بارے میں