فلموں میں سگرٹ نوشی سے نوجوان متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption رسرچ میں سنہ دو ہزار ایک اور پانچ کے درمیان تین سو ساٹھ فلموں کو مدِنظر رکھا گیا

برطانیہ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق فِلموں میں اداکاروں کو سگرٹ پیتے دیکھنے سے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

پندرہ سال کے پانچ ہزار نوجوانوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سگرٹ نوشی کے حوالے سے موجودہ قوانین میں تبدیلیاں درکار ہیں تاکہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے سگریٹ نوشی سے متاثر نہ ہوں۔

برطانیہ کی برسٹِل یونیورسٹی کے محققین کے بقول اس حوالے سے حفاظتی اقدامات لینا ضروری ہو گیا ہے۔

لیکن سگرٹ نوشی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ وجہ قابلِ قبول نہیں اور یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں کا سگریٹ پینے کے فیصلے میں فلموں کا ہاتھ ہے۔

تھوراکس نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں سنہ دو ہزار ایک اور پانچ کے درمیان ریلیز ہونے والی تین سو ساٹھ ایسی مشہور فلموں کو مدِنظر رکھا گیا جن میں سگریٹ نوشی دکھائی گئی ہو۔

تحقیق کے مطابق فلموں کی اِس فہرست میں سے جن نوجوانوں نے سب سے زیادہ فلمیں دیکھیں ان کا دوسروں کی نسبت کم از کم ایک مرتبہ سگریٹ نوشی کرنے کا تہتر اور فی الوقت سگریٹ نوش ہونے کا پچاس فیصد زیادہ امکان ہے۔

یہ جانتے ہوئے کہ نوجوانوں کے سگریٹ پینے میں بہت بڑا ہاتھ ان کے والدین اور دوستوں کا ہوتا ہے، محققین نے نوجوانوں کے سوشل بیک گراؤنڈ کا بھی جائزہ لیا۔

لیکن اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس سب کے باوجود اکتیس فیصد نوجوان ایسے ہیں جنھوں نے بغیر کسی سے متاثر ہوئے خود سے سگریٹ نوشی شروع کی۔

تحقیق کرنے والی آنڈریا ویلن کا کہنا تھا ’ہم نے نوجوانوں کے سگریٹ نوش ہونے اور ان کی جانب سے سگریٹ نوشی دکھائی جانے والی فلموں کو دیکھنے کی تعداد کے درمیان مثبت ربط دیکھا۔‘

انھوں نے کہا ’برطانیہ میں پچاس فیصد سے زائد سگریٹ نوشی دِکھائی جانے والی فلموں کو دیکھنے کے لیے پندرہ سال کا ہونا ضروری ہے۔ سو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیشتر نوجوان ایسے ہیں جو متاثر ہو رہے ہیں اس لیے یہ ضروری ہے کہ سگرٹ نوشی کی حد پندرہ سال سے بڑھا کر اٹھارہ سال کر دی جائے۔‘

دوسری جانب فورسٹ نامی سگریٹ نوشی کے گروہ کے سائمن کلارک کا کہنا ہے ’یہ بالکل غیر ضروری ہے کہ نوجوانوں کو صرف ایسی فلمیں دکھائی جائیں جن میں سگریٹ نوشی نہیں کی جاتی۔‘

ان کا کہنا تھا ’میرا سوال یہ ہے کہ کل کو مزید کیا ہو گا؟ کیا ہم نوجوانوں کو ایسی فلمیں دکھانے سے بھی روکیں گے جن میں موٹے لوگ ہوں کیونکہ وہ نوجوانوں پر برا اثر ڈال سکتے ہیں؟‘

انھوں نے کہا ’ہم لوگ سینما اسی لیے جاتے ہیں کہ پابندیوں سے کچھ دیر کے لیے نجات ملے۔تمباکو کی روک تھام کرنے والی انڈسٹری کو اپنا یہ آمریت پسند ایجینڈا کہیں اور لے جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں