’روشنی سے تیز ذرات، سائنسدان پریشان‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جوہری تحقیق کی یورپی تجربہ گاہ ’سرن‘ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تجربات کے دوران ایسے ’سب اٹامک‘ ذرات کا پتہ چلایا ہے جو روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار سے سفر کرتے ہیں۔

ان تجربات کے نتائج نے طبیعات کے ماہرین کو چونکا دیا ہے کیونکہ یہ طبیعات کے ایک بنیادی اصول سے متصادم ہیں۔

اس تجربے کے دوران روشنی کی رفتار کے ساتھ سفر کرنے والے نیوٹرینوز کو سرن لیبیاٹری سے اٹلی میں سات سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گران ساسو لیبیاٹری بھیجا گیا۔ تاہم نیوٹرینو کی واپسی روشنی کی رفتار سے ایک سیکنڈ قبل ہوئی۔

اگر ان نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے مشہور ماہرِ طبیعات آئن سٹائن کے نظریۂ اضافت کے ایک بڑے حصے کی تردید ہو جائے گی جس کے تحت روشنی کی رفتار سے کوئی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی۔

جمعہ کو سائسندان سرن میں ایک کانفرنس کے دوران ان نتائج پر بحث و تمحیص کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ہر ممکنہ توجیہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔‘

’سرن‘ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ان نتائج پر یقین کرنے کے معاملے میں مخمصے میں ہیں اور انہوں نے دیگر سائنسدانوں سے کہا ہے کہ وہ ان نتائج کی آزادانہ طور پر تصدیق کریں۔

اس پیشکش کے بعد امریکی ریاست الینوائے میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے چند برس قبل ایسا تجربہ کیا تھا اور وہ اب دوبارہ اسے مزید احتیاط اور درستگی کے ساتھ کریں گے تاکہ ’سرن‘ کے دعوے کی تصدیق یا تردید ہو سکے۔

دریں اثناء سائنسدانوں کے ایک دوسرے گروپ کا کہنا ہے کہ وہ اس دعوے پر تبصرہ کرنے پر احتیاط برت رہے ہیں۔ اوپیرا کولیبریشن کے اینتونیو ایرادیتو کا کہنا ہے ’ہم نے ان نتائج سے حاصل ہونے والی معلومات کی پوری چھان بین کرنے کی کوشش کی ہے‘۔

اینتونیو نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ہم غلطی تلاش کرنا چاہتے تھے جس میں معمولی غلطی، زیادہ الجھی ہوئی غلطی یا کوئی ایسی غلطی شامل ہو جس کے اثرات ہوں مگر ہم کوئی غلطی تلاش نہیں کر سکے۔

’جب آپ کوئی غلطی تلاش نہیں کر سکتے تو آپ کہتے ہیں کہ اب میں مجبور ہوں کہ باہر جا کر کمیونٹی سے کہیں کہ وہ اس کی مزید جانچ کرے‘۔

.ڈاکٹر ایرادیتو کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ ان تجربات کے نتائج کو جانچنے کے لیے کسی اور سے بھی تجربہ کرایا جائے اور جب وہ تجربہ وہی نتائج دے گا جو میں نے بتایا ہے تو پھر میں مطمئن ہو جاؤں گا۔‘

آئن سٹائن کے نظریے پر اب تک ہزاروں تجربات کیے گئے اور ان میں کوئی بھی ذرہ روشنی کی رفتار سے آگے نہیں جا سکا۔ لیکن ڈاکٹر ایرادیتو اور ان کے ساتھیوں نے گزشتہ تین سالوں کے دوران اپنے تجربات جاری رکھے جس کے بعد یہ معلوم ہوا کہ سب اٹامک ذرات کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں