ریڈی ایشن سے کینسر کے علاج میں پیش رفت

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الفا پارٹیکلز کو ریڈی ایشن کی دنیا میں طاقتور مانا جاتا ہے۔

کینسر کے لیے علاج کا ایک نیا طریقہ کامیاب ہوگیا ہے جں کے ذریعے کینسر زدہ پھوڑوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

لندن کے رائل مسرڈن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایسے مریضوں کا علاج طاقتور ایلفا ریڈی ایشن سے کیا جو پروسٹیٹ کینسر یعنی مثانے کے غدود کے کینسر میں مبتلا تھے اور یہ پایا کے یہ مریض زیادہ عرصے تک زندہ رہے اور انہیں درد بھی کم ہوا اور اس کے منفی اثرات بھی کم ہوئے۔

’پروسٹیٹ کینسر کا نیا طریقۂ علاج‘

اس کے بعد ڈاکٹروں نے نو سو بائیس لوگوں پر کیے جانے والے تجربات روک دیے اور کہا کہ ان سب کو یہی علاج فراہم نہ کرنا نامناسب ہوگا۔

تحقیق کرنے والے ڈاکٹر کرس پارکر کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔‘

کینسر پر تحقیق کرنے والے برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی اہم اور دُور رس کامیابی ہے۔

کینسر کے پھوڑوں کے علاج میں ریڈی ایشن یعنی شعاعوں کا استعمال ایک صدی سے زائد سے ہو رہا ہے۔ اس کی مدد سے کینسر کے حلیوں میں جینیٹک کوڈ کو توڑا جاتا ہے۔

ایلفا پارٹیکلز کو ریڈی ایشن کی دنیا میں بڑا بھاری اور زور آور مانا جاتا ہے۔

ڈاکٹر پارکر نے بی بی سی کو بتایا ’یہ زیادہ تباہ کن ہے، یہ ایک، دو یا تین ضربوں میں ہی کینسر کو مار دیتا ہے جبکہ بیٹا پارٹیکلز ایسا کرنے میں ہزاروں ضربیں صرف کرتے ہیں۔‘

ایلفا پارٹیکلز کینسر کے ارد گرد موجود دوسرے ٹِشوز کو کم نقصان پہنچاتا ہے۔

ڈاکٹر پارکر نے مزید بتایا ’ ان کا دائرہء کار بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لیے ہمیں یقین ہوتا ہے کہ نقصان صرف وہیں ہو رہا ہے جہاں اسے ہونا چاہئیے۔‘

مثانے کے غدود کے کیسنر کی شدید نوعیت میں مبتلا نوے فیصد مریضوں کا زخم ہڈی تک پھیل جاتا ہے۔ اس مرحلے پر بچنے کے لیے کوئی علاج نہیں ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہء علاج ہے۔ اس علاج سے غیرمعمولی طور پر منفی اثرات میں انتہائی کم ہوئے۔

اسی بارے میں