بھنبھناہٹ سے قوتِ مدافعت میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نر مکھی کی بھنبھناہٹ نہ صرف مادہ مکھی کو تولیدی عمل کی طرف راغب کرتی ہے بلکہ اس کی قوتِ مدافعت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

اس سے پہلے کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ نر مکھی کی بھنبھناہٹ کی آواز مادہ مکھی کے لیے نہ صرف حوش کن ہوتی ہے بلکہ یہ اسے افزائشِ نسل کے لیے تیار کرتی ہے۔

محققین نے اب دریافت کیا کہ نر مکھی کی بھنبھناہٹ مادہ مکھی کو بیماری لگنے کے خطرے سے بھی آگاہ کرتی ہے جس کی وجہ سے اس کے جسم میں مدافعتی جینز تیزی سے حرکت میں آجاتے ہیں۔

نئے نتائج رائل سوسائٹی جرنل میں شائع کیے گئے ہیں۔

یہ تحقیق سینٹ اینڈریوس یونیورسٹی کے ایلینا ایمونن اور مائیک ریچی نے کی۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ جب مکھیاں تولیدی عمل کے لیے تیار ہوتی ہیں تو ان میں کون کون سے جین حرکت میں آتے ہیں۔

ایک جذبات سے بھرپور مکھی کے جنیاتی خاکے کی مدد سے مکھیوں کے طبعیاتی ساخت کی تصویر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ارو اس تحقیق کے لیے ’فروٹ فلائیز‘ نامی مکھیاں بہترین مخلوق ثابت ہوتی ہیں۔

ان مکھیوں کے لگ بھگ تمام جینز کے جسم میں کردار کی شناخت کی جا چکی ہے۔

پروفیسر ریچی کا کہنا ہے ’ بنیادی طور پر ہم جاننا چاہتے تھے کہ جب ایک مادہ مکھی ایک نر مکھی کی جانب راغب ہوتی ہے تو اس کے اندر کیا جنیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔‘

اس کے لیے محققین نے نر فروٹ فلائیز کی پروں کی لرزش سے پیدا کیے گئے نغموں کی ریکارڈنگ بجائی۔ اس کے بعد ان مادہ مکھیوں کے متحرک جینز کا مطالعہ کیا گیا۔

پروفیسر ریچی نے وضاحت کی کہ ’مطالعے سے معلوم ہوا کہ جب مادہ مکھیوں نے اپنی ہی نسل کی نر مکھیوں کے ترغیب دینے والے نغمے سنے تو وہ دھیرے دھیرے پرجوش ہونے لگیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حیران کن بات یہ تھی کہ اس مکھی کے وہ جین متحرک ہو گئے جن کا تعلق اس کے مدافعتی نظام سے تھا۔‘

’اس سے ظاہر ہوا کہ جب وہ مخالف جنس کے نغمے سنتی ہے تو اسے علم ہوتا ہے کہ جلد ہی وہ تولیدی عمل سے گزرے گی۔ اس لیے وہ اپنے اندر جسمانی تبدیلیاں لاتی ہے جس کے دوران مدافعتی نظام کو تیز کرنے والے جین بھی متحرک ہو جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں