کیمسٹری: نوبل انعام ’کوازی کرسٹلز‘ کی دریافت کے لیے

کوازی کرسٹل تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption کوازی کرسٹل ایک ایسا کرسٹل ہے جوقلموں کے بارے میں پہلے سے وجود قواعد پر پورا نہیں اترتا

کیمسٹری (کیمیا) کا نوبل انعام ایک ہی محقق کو ان کے ’کوازی کرسٹلز‘ سے متعلق تحقیق کے لیے دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ڈینیئل شیکٹمین کا تعلق اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنولوجی سے ہے اور ان کو یہ انعام ایک نیا کیمیائی ڈھانچہ یعنی ’کوازی کرسٹلز‘ (کرسٹل نما) بنانے کے لیے دیا گیا ہے۔

انہوں نے ’کوازی کرسٹلز‘ کو الومنیئم اور مینگنیز جیسی دھاتوں کو انتہائی درجہ حرارت سے بہت جلد ٹھنڈا کر کے تخلیق کیا۔ انہوں نے مائکروسکوپ کے ذریعے سے یہ دیکھا کہ اس حالت میں یہ مواد دوسرے کرسٹلز سے مختلف شکل اختیار کرتا ہے، اور اس میں شامل اکائیوں کے نمونے دوسرے کرسٹلوں جیسے نہیں ہیں جن میں ایک نمونہ بار بار پایا جاتاہے۔

کوازی کرسٹلز میں نقوش کے مسلسل سلسلے نہیں بنتے تاہم اکائیوں کا ڈیزائن انتہائی خوبصورت ہوتا ہے۔ اس سے ملتے ہوئے ڈیزائن سپین میں مسلمان کے دور کی کئی عمارتوں میں ملتے ہیں خصوصاً الحمرا کی دیواروں پر۔

ڈاکٹر شیکٹمین نے اپریل 1982 میں پہلی بار اس کا مشاہدہ کیا تھا اور ابتدا میں تو انہیں اس پر یقین ہی نہیں آیا۔ تب ان کا رد عمل تھا کہ ’یہ توہو نہیں سکتا۔‘

ڈاکٹر شیکٹمین کی تحقیق کے بعد سے سائنسدانوں نے کوازی کرسٹلز کے نہ صرف کئی نمونے بنائے ہیں بلکہ یہ روس کے ایک دریا میں قدرتی شکل میں بھی پاے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈاکٹر شیکٹمین کی یہ دیافت کئی سالوں تک متنازع رہی ہے

کوازی کرسٹل حرارت اور توانائی کی ترسییل میں ایک ناقص کنڈکٹر ہوتے ہیں اور ان کو اب بجلی کے تاروں کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ یہ نا چپکنے والے سخت مادے کی شکل میں ہوتے ہیں اور فرائی پین بنانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ کوازی کرسٹل کو اب ریزر بلیڈ کے علاوہ آنکھو کی سرجری کے لیے درکار باریک سوئیاں بنانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر اینڈریو گُڈوِن کہتے ہیں ’شیکٹمین کے کوازی کرسٹل اب انجینیئرنگ کےمحتلف مواد کو بہتر بنانے کے لیا استعمال کیے جا رہے ہیں اور یہ ساختیاتی سائنس کا بالکل ہی نیا شعبہ ہے۔‘

’اگر شیکٹمین کی تحقیق سے ہم ایک سبق سیکھ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم فطرت کی خود اپنی تخلیاتی قوت کو کمتر نہ سمجھیں۔‘

رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے صدر پروفیسر ڈیوڈ فلپس کہتے ہیں کہ کوازی کرسٹلز ’بہت ہی خوبصورت‘ دریافت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ’کیمیائی اور عناصر سے متعلق سائنس کا ایک انوکھا پہلو ہے، ایسے کرسٹل جو کہ کرسٹلز کے بارےہ میں موجود شرائط پر پورے نہیں اترتے۔‘

اس سال طب کا نوبل انعام امریکہ کے بروس بیوٹلر، فرانس کے ژُول ہوفمان اور کینیڈ ا کے رالف سٹائنمین کو طبی مدافعت کے سائنس میں ان کے کام کے لیے دیا گیا ہے۔ فزکس کا نوبل انعام امریکی سائنسدانوں ساؤل پرلمیوٹر، ایڈم ریِس اور آسٹریلیا کے برائن شمِٹ کو ان کی اس تحقیق کے لیے دیا گیا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ کائنات کے پھیلاؤ میں تیزی آرہی ہے۔

اسی بارے میں