موٹاپا نوجوان لڑکیوں کے لیے نقصان دہ

تصویر کے کاپی رائٹ ABr
Image caption برطانیہ میں ہر تیسرا نوجوان موٹاپے کا شکار ہے۔

امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق لڑکوں کی نسبت نوجوان لڑکیوں میں موٹاپے کے باعث بلند فشارِ خون میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

بلند فشارِ خون آگے جا کر امراضِ قلب اور دل کے دورے کی وجہ بنتا ہے۔

سترہ سو نوجوانوں پر کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کہ لڑکوں کی نسبت لڑکیوں میں بلند فشارِ خون کے امکانات تین گنا تھے۔

’بلڈ پریشرسے عمر دس سال کم‘

پڑھائی بلڈ پریشر کم کرتی ہے

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نامی تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اس وقت ہر تیسرا نوجوان موٹاپے کا شکار ہے۔

تحقیق کے دوران ضلعی سطح پر سکولوں میں کیے گئے سروے میں تیرہ سے سترہ برس کے درمیان کے نوجوانوں کے فشارِخون کا جائزہ اور طبی معائنے کیے گئے۔ ان کے قد اور وزن کے تناسب کا ریکارڈ بنایا گیا جسے ’باڈی ماس انڈیکس‘ یا BMI کہا جاتا ہے۔

ان نوجوانوں میں دو طرح کے خون کا دباؤ پایا گیا۔ ایک ڈیاسٹولیک پریشیر جس میں شریانوں میں دباؤ کم رہا۔ دوسری قسم سیسٹولیک بلڈ پریشر تھی جس میں خون کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے ۔اس دوران جب دل کی دھڑکن بڑھتی ہے تو شریانوں میں خون کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے۔

سیسٹولیک پریشیر کی زیادتی امراضِ قلب اور دل کے دورے کی وجہ بنتی ہے۔

تحقیق سے پتا چلا ہے کہ موٹاپے کا شکار لڑکوں میں عام لڑکوں کی نسبت سیسٹولیک بلڈ پریشر کا شکار ہونے کے امکانات ساڑھے تین گنا ہوتے ہیں۔

لیکن اسی حساب سے موٹاپے کا شکار لڑکیوں کو عام لڑکیوں کی نسبت سیسٹولیک بلڈ پریشر کا خطرہ نو گنا ہوتا ہے۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر روڈی آرٹز کا کہنا ہے کہ ’ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ موٹاپے کا شکار لڑکیوں میں طبی مسائل کا خطرہ فربہ لڑکوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔‘

’ سروے کےمطابق فربہ اندام لڑکیاں لڑکوں کی نسبت جسمانی افعال بہت کم سرانجام دیتی ہیں۔‘

تاہم برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی ایک سینئیر نرس کا کہنا ہے کہ ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق ہونا باقی ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ موٹاپے کی وجہ سے لڑکیوں کی صحت کو لڑکوں کی نسبت زیادہ خطرہ ہے۔

اسی بارے میں