’ملیریا سے ہلاکتوں میں بیس فیصد کمی‘

Image caption مچھروں سے پھیلنے والی بیماری ملیریا زیادہ تر افریقہ کے علاقوں ہوتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ دس برس کے دوران ملیریا سے ہلاکتوں کی تعداد میں بیس فیصد کے قریب کمی آئی ہے۔

عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک سو آٹھ ممالک میں ملیریا وبائی صورت میں موجود ہے تاہم ان میں سے ایک تہائی ممالک ایسے ہیں جو اگلے دس سال کے اندر اس مرض کو ختم کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اہداف حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو سنہ دو ہزار پندرہ تک مزید تیس لاکھ افراد ملیریا کا شکار ہوکر موت کے منہ میں جانے سے بچ سکتے ہیں۔

سنہ دو ہزار سات سے اب تک تین مزید ممالک میں ملیریا کی بیماری پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

رول بیک ملیریا پارٹنر شپ کا مقصد ملیریا کو سنہ دو ہزار پندرہ تک آٹھ سے دس مزید ملکوں سے ختم کرنا ہے جن میں عالمی ادارے کا تمام یورپی علاقہ شامل ہے۔

مچھروں سے پھیلنے والی بیماری ملیریا زیادہ تر افریقہ کے علاقے صحارا میں پائی جاتی ہے جہاں اس سے پچاسی فیصد اموات ہوتی ہیں۔ سنہ دو ہزار نو میں ملیریا سے سات لاکھ اکیاسی ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عالمی ادارۂ صحت میں گلوبل ملیریا پروگرام کے ڈائریکٹر رابرٹ نومین کا کہنا ہے کہ ملیریا پر قابو کرنے میں ’زبردست پیش رفت‘ ہوئی ہے۔

ملیریا کا عالمی خاتمہ

عالمی ادارۂ صحت نے ملیریا کو عالمی پیمانے پر ختم کرنے کے لیے سنہ انیس سو پچپن میں مہم کا آغاز کیا تھا اور اب تک اسے ملیریا کو سولہ ممالک میں ختم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

تاہم گزشتہ دو عشروں کے دوران عالمی ادارے نے ملیریا کو کنٹرول کرنے پر زیادہ توجہ دی، حالانکہ انیس سو ستاسی تک مزید آٹھ ممالک کو ملیریا سے مبرّا قرار دیا گیا۔

حالیہ برسوں میں طویل مدتی اقدام کے طور پر ملیریا کے خاتمہ کا عزم دوبارہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے اندازہ لگایا ہے کہ ملیریا سے معاشی نقصانات ہوتے ہیں اور ایسے ممالک جہاں یہ بیماری وباء کو صورت اختیار کرسکتی ہے وہاں مجموعی قومی پیداوار میں بھی تیرہ فیصد کمی آسکتی ہے۔

ملیریا سے شدید متاثرہ ممالک میں بجٹ کا چالیس فیصد شعبۂ صحت پر خرچ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں