مصنوعی سیارہ زمین پر گر کر تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ DLR

زمین کی جانب واپس آنے والا جرمنی کا مصنوعی سیارہ اتوار کو قابو سے باہر ہونے کے بعد زمین پر گر گیا ہے۔

جرمن مصنوعی سیارہ رو سیٹ زمین کی فضا میں گرینج کے معیاری وقت کے مطابق ایک بج کی پینتالیس منٹ سے دو بج کر پندرہ منٹ کے درمیان داخل ہوا تھا۔

اگر یہ وقت درست ہے تو منصوعی سیارے کا ملبہ بحرہ ہند میں کسی جگہ گرا ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی شہادت نہیں مل سکی ہے۔

جرمنی کے خلائی ادارے کے سائنسدانوں نے برما اور چین کی حکومتوں کو بھی سیارے کے ملبے کے ان کی سرزمین پر گرنے کے امکانات سے آگاہ کر دیا ہے۔

جرمنی کا یہ سیارہ ناکارہ قرار دے کر واپس لایا جا رہا تھا لیکن بعد میں قابو سے باہر ہو گیا تھا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ قدیم ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر اس کا کافی سارا ملبہ زمین کے مدار میں داخل ہوا اور سطح زمین کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھنے لگا تھا۔

جرمن ماہرین سر توڑ کوششوں کے بعد بھی یہ اندازہ لگانے سے قاصر رہے کہ روسیٹ زمین پر کب کیسے اور کہاں گرے گا۔

اس نوعیت کا ایک واقعہ ستمبر میں بھی ہوا تھا جب ایک امریکی سیارے کا ملبہ زمین کے مدار میں داخل ہوا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رو سیٹ کا ملبہ اس سیارے سے چھ گنا زیادہ ہے۔

روسیٹ سیارہ خلاء میں ایکسرے سکائی کے مشاہدے کے لیے سنہ انیس سو نوے میں بھیجا گیا تھا۔

قریباً آٹھ سال اور چھ ماہ کے بعد اس نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور سنہ انیس سو ننانوے سے زیر استعمال نہیں تھا۔

ٹریکنگ سٹیشن یا خلاء میں موجود مصنوعی سیاروں پر نظر رکھنے والے مراکز کے مطابق روزانہ خلائی ملبے کا کوئی نہ کوئی حصہ زمین کی جانب واپس آتا ہے اور مکمل ناکارہ منصوعی سیارہ یا پرانے راکٹ کا حصہ ہفتے میں ایک بار زمین کی فضا میں داخل ہوتا ہے۔

اسی بارے میں