پولیو کے خاتمے کے لیے اضافی امداد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو ہزار دس میں پاکستان میں پولیو کے ایک سو چوالیس مریض سامنے آئے

دولتِ مشترکہ میں شامل ممالک نے دنیا سے پولیو کی بیماری کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں جاری دولتِ مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نائجیریا کے رہنماؤں اور دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ارب پتی کاروباری شخصیت بل گیٹس نے اس بیماری کے خاتمے کے لیے عالمی ادارۂ صحت کو کروڑوں ڈالر کی اضافی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اس وقت پولیو کی بیماری دنیا میں صرف چار ممالک، پاکستان، افغانستان، بھارت اور نائجیریا میں پائی جاتی ہے اور عالمی ادارۂ صحت اس کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور مہم چلا رہا ہے۔

سنیچر کو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ بےحد پریشان کن ہے۔

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں گزشتہ چند برس میں پولیو کے مریض بڑھے ہیں۔ دو ہزار دس میں پاکستان میں پولیو کے ایک سو چوالیس مریض سامنے آئے جبکہ دو ہزار نو میں یہ تعداد نواسی تھی۔ ڈبلیو ایچ او کے اعدادوشمار کے مطابق رواں برس بھی اب تک پولیو کے ایک سو اٹھارہ مریض سامنے آ چکے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں ویکیسنیشن پروگرام کی ناکامی کی وجوہات سرحد کے آرپار لوگوں کی نقل و حرکت، لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیموں کی عدم رسائی اور مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے ویکسینیشن مہم کی مخالفت ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان رواں برس کے خاتمے تک ملک سے پولیو کے ملک خاتمے کا ہدف پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سامنے ایک بڑا مقصد ہے لیکن ہم پولیو کے خاتمے اور پاکستان کے ہر بچے کو اس سے بچانے کے لیے پرعزم ہیں‘۔

اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ دنیا کی پولیو سے ننانوے فیصد محفوظ ہونا قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولیو پر مکمل قابو نہیں پایا جاتا تو اس کے دوبارہ پھیلنے کا خطرہ موجود رہے گا۔

اسی بارے میں