برطانیہ:سائبر حملوں کی تعداد ’پریشان کن‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’مستقبل میں برطانیہ میں ٹیکس ادائیگی اور عوامی فلاح کے آن لائن نظام کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے‘

برطانیہ کی کمیونیکیشن انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے برطانیہ کو ’پریشان کن‘ تعداد میں سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایئن لوبان نے برطانوی اخبار میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ان حملوں کا ہدف سرکاری کمپیوٹرز کے علاوہ دفاع، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں سے متعلقہ اداروں کے کمپیوٹرز میں موجود ڈیٹا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں برس موسمِ گرما میں برطانیہ کے دفترِ خارجہ کے کمپیوٹرز پر کئی ناکام سائبر حملے کیے گئے۔

برطانوی حکومت منگل کو اس مسئلے پر دو روزہ کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہے۔

یہ کانفرنس برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے لندن میں طلب کی ہے اور اس کا مقصد اہم عالمی رہنماؤں، سائبر سکیورٹی کے ماہرین اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے اہم کرداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے۔

ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ سائبر معاملات پر پالیسی سازی کے لیے مشترکہ عالمی ردعمل درکار ہے۔

اپنے مضمون میں ایئن لوبان نے کہا ہے کہ یہ حکمتِ عملی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سائبر جرائم اور حکومتی اور صنعتی نظام پر حملے پریشان کن ہیں اور یہ برطانوی خیالات اور نمونے چرانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس قسم کی انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی چوری نہ صرف متعلقہ کمپنیوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ برطانیہ کی اقتصادی خوشحالی پر حملے کے بھی مترادف ہے‘۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں برطانیہ میں ٹیکس ادائیگی اور عوامی فلاح کے آن لائن نظام کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں