پیٹ میں چربی کینسر کے پھیلاؤ کا سبب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیضہ دانی کا کینسر برطانیہ کی خواتین میں پانچواں سب سے زیادہ پائے جانے والا کینسر ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق پیٹ کے اوپر چربی کی تہہ رحم کے کینسر کو پھیلانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

رحم یا بیضہ دانی کے کینسر کے اسّی فیصد کیسز میں بیماری کی تشخیص سے پہلے ہی کینسر پیٹ پر موجود چربی کی اس تہہ تک پہنچ جاتا ہے جسے اومینٹم کہا جاتا ہے۔

دی نیچر میڈیسن ریسرچ نامی رسالے کا کہنا ہے کہ اگر رحم کا کینسر جسم میں اومینٹم تک پہنچ جائے تو یہ بیماریچربی کی اس پُوری تہہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

برطانیہ میں ماہرین کے مطابق یہ تحقیق رحم کے کینسر کو سمجھنے کے لیے فائدے مند ثابت ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کینسر برطانیہ کی خواتین میں پانچواں سب سے زیادہ پائے جانے والا کینسر ہے۔

اومینٹم پیٹ کے اُوپری حصے میں پایا جاتا ہے اور اگرچہ یہ اپنے ارد گرد موجود اعضاء کو سہارا دیتا ہے لیکن جسم میں اس کا ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اومینٹم میں اس کینسر کا پھیلاؤ ابتدائی پھیلاؤ سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تاہم یہ معلوم کرنے کے لیے امریکہ میں یونیورسٹی آف شکاگو کی ایک ٹیم نے چوہوں پر تجربہ کیا جس سے واضح ہوا کہ یہ کیسنر اومینٹم تک بیس منٹ کے اندر داخل ہو جاتا ہے جس کے بعد یہ اومینٹم میں موجود چربی کو استعمال میں لا کر مزید بڑھتا رہتا ہے۔

یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر ارنسٹ لینگل کا کہنا ہے ’جن اجزاء سے اومینٹم بنا ہے یہ علمِ حیات کے مطابق وہی اجزاء ہیں جو جہازوں کے ایندھن میں بھی پائے جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’اومینٹم کی چربی کینسر کے جراثیم کی پرورش کرتی ہے اور بیماری کو جسم میں تیزی سے بڑھاتی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس بارے میں ہم جتنی معلومات اکٹھی کر سکیں اتنا ہی اچھا ہے کیونکہ اس سے علاج سامنے آئے گا۔‘

محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چربی چھاتی اور رحم کے کینسر سمیت دیگر اقسام کے کینسر کا بھی باعث ہے۔

اسی بارے میں