سپیم ایس ایم ایس، صارفین کے لیے زحمت

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پاکستان میں اس وقت موبائل فون صارفین کی تعداد دس کروڑسے زیادہ ہے

کیا آپ کے پاس موبائل فون ہے؟ اگر ہاں تو پھریقیناً آپ کو روزانہ دسیوں ایسےایس ایم ایس ملتے ہوں گے جن میں آپ کو اےگریڈ میں میٹرک پاس کروانے کی یقین دہانی کروائی گئی ہو یا پھر دیمک مار کم قیمت دوا بیچنے کی کوشش کی جاتی ہوگی اور کہیں آسان اقساط میں حج اور عمرے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

یہ پیغامات ایک ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں سینکڑوں نمبرز پر بیک وقت ارسال کیے جاتے ہیں اس لیےایسے پیغامات بغیرکسی تفریق کے اس فہرست میں شامل ہر مرد، خاتون ،بوڑھے اور بچے تک پہنچتے ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کےمطابق پاکستان میں اس وقت موبائل فون صارفین کی تعداد دس کروڑسے زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب موبائل فون کسی بھی چیزکی تشہیرکے لیےایک مؤثر ذریعہ بن چکاہے۔

دوسری جانب موبائل فون استعمال کرنے والے ان پیغامات سے سخت پریشان ہیں۔ محمد سلمان نامی ایک شخص نے بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا کہ ہر وقت چاہےاس وقت آپ گاڑی چلا رہے ہوں یا سو رہے ہوں یہ پیغامات آتے رہتے ہیں ایک نمبر بند کرواؤ تو دوسرے سے آ جاتے ہیں۔

حسنٰی علی نامی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں یہ نمبر ان کمپنیز تک کیسے پہنچتے ہیں۔

مارکیٹ میں اس وقت ایسے کئی سافٹ ویئرز موجود ہیں جو یہ کہہ کر بیچےجا رہے ہیں کہ ان کے پاس لاکھوں موبائل نمبرز کا ڈیٹا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے ایسے ان چاہے پیغامات سے موبائل فون صارفین کی حفاظت کے لیے دو سال پہلے ’تحفظِ صارفین ریگولیشن 2009‘ جاری کیا تھا جس کے تحت موبائل فون آپریٹرز کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر نظام تشکیل دیں۔

تاہم دو سال گزرجانے کے باوجود صارفین کی شکایت کا ازالہ نہیں ہو سکا ہے۔

موبی لنک کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز عمر منظور کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کی ہدایات کےمطابق ان کی کمپنی نے بھی دیگر کمپنیز کی طرح ’سپیم فلٹرز‘ لگائےہیں مگر پیغامات بھیجنے والے بھی تکنیکی اعتبارسے بہت مضبوط ہیں اور وہ اس کا توڑ نکال لیتےہیں جس کےجواب میں ہم اپنے فلٹرز کو اپ گریڈ کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ موبی لنک کو روزانہ موصول ہونے والی شکایات کا تقریباً دو فیصد ایسے ہی پیغامات کے بارے میں ہوتا ہےجس پر وہ فوری طور پر ایکشن لیتے ہیں۔

ایک اور موبائل فون آپریٹرکمپنی ٹیلی نار کی ڈائریکٹر کمیونیکیشنز انجم رحمان نے اس بارے میں کہا کہ پی ٹے اے کی ہدایات کے تحت اینٹی سپیم فلٹر لگانے کا کام شروع کیا جا چکا ہے اور فون کالیں روکنے کا ذریعہ تو ہم نے دے دیا ہے جبکہ باقی کام دسمبر تک ہو جائے گا۔

انہوں نے بازار میں ملنے والے سوفٹ ویئرز کے بارے میں کہا کہ اس کے لیے پی ٹی اے کو حرکت میں آنا ہوگا وہ اگر ایسی کمپنیز پر بھاری جرمانے اور پابندی نہیں لگاتا تو آپریٹرز کچھ نہیں کر سکتے۔

پی ٹی اے کے چیئرمین یا ترجمان سے تو باوجود کوششوں کے رابطہ نہیں ہو سکا تاہم پی ٹی اے نے بی بی سی اردو کی جانب سے بھیجےگئے سوالات کا تحریری جواب بھیجا جس کےمطابق پی ٹی اے نے ایک مددگارنمبر جاری کیا ہے جہاں صارفین اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ مختصرکوڈز پر مشتمل سروس بھی فراہم کی گئی ہے جہاں صارفین ایس ایم ایس کےذریعے اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ پی ٹی اے کا کہناہے کہ موبائل فون آپریٹرز نے اس بارے میں مکمل تعاون کیاہے اوریہ ریگولیشنز ان کی مشاورت سےتیار کی گئیں ہیں۔

تاہم پی ٹی اے کےجوابات میں یہ ابہام اب بھی موجودہےکہ کتنے پیغامات بھیجنا سپیمنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہےکہ وہ سپیم میسج بھیجنے والے نمبرز کی نشاندہی کر کے اسے بند کر دیتے ہیں جو اسےمختلف آپریٹرز سیریز کی شکل میں فراہم کرتے ہیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین زیادہ تر اپنی شکایات آپریٹر کے پاس درج کرواتے ہیں اس لیے وہ ایسی شکایات کی صحیح تعداد نہیں بتا سکتے مگر پی ٹی اے کے پاس اوسطاً ماہانہ ایسی ایک سو سات شکایات وصول ہوتی ہیں جن میں سے ہر شکایت درست بھی نہیں ہوتی۔

اسی بارے میں