فیس بک پر فحش مواد کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ اس قسم کا مسئلہ ہے جو لوگوں کو ویب سائٹ سے متنفر کر سکتا ہے:گراہم کلولی

سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ویب سائٹ پر فحش، عریاں اور تشدد سے بھرپور تصاویر کی اشاعت کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔

یہ تصاویر فیس بک صارفین کی ’نیوز فیڈ‘ میں دکھائی دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ زیڈڈی نیٹ کا کہنا ہے کہ یہ مواد ’لنک سپیم‘ وائرس کی مدد سے پھیلایا جا رہا ہے۔

فیس بک کی ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس اس کے بارے میں اطلاعات ہیں اور ہم معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

فیس بک کے ہزاروں صارفین نے اس بارے میں ٹوئٹر پر بھی تبصرے کیے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’مجھے ایک نئی فحش ویب سائٹ کا پتہ چلا اور اس کا نام ہے فیس بک‘۔

ایک اور صارف کا کہنا ہے کہ فیس بک فوٹو شاپ کی مدد سے بنائی گئی ان عریاں تصاویر سے نمٹے۔ یہ اشتعال انگیز ہیں‘۔

کئی لوگ اس کارروائی کا تعلق اس گمنام گروپ سے جوڑ رہے ہیں جس نے یو ٹیوب پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں اس ’سوشل نیٹ ورک‘ کو ختم کر دینے کی دھمکی دی تھی۔

انٹرنیٹ سکیورٹی فرم سوفوس کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر چوبیس گھنٹے سے زائد عرصے سے فیس بک پر گردش کر رہی ہیں۔ کمپنی کے ماہر گراہم کلولی کے مطابق ’یہ اب تک واضح نہیں کہ یہ اشتعال انگیز مواد کیسے پھیلایا جا رہا ہے‘۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے فیس بک پر دور رس اثرات پڑ سکتے ہیں۔

اپنے بلاگ میں گراہم نے لکھا ہے کہ ’یہ اس قسم کا مسئلہ ہے جو لوگوں کو ویب سائٹ سے متنفر کر سکتا ہے۔ فیس بک کو اس سے جلد از جلد نمٹنا ہوگا اور آئندہ ایسے کسی واقعے کی روک تھام کرنا ہوگی‘۔

اسی بارے میں