غلط تشہیر، ایک ارب ڈالر ادائیگی پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ دو ہزار چار میں یہ دوا مارکیٹ سے واپس لے لی گئی تھی

امریکی دوا ساز کمپنی ’مرک اینڈ کمپنی‘ نے دردکُش دوا ’وائے اوکس‘ کی غلط انداز میں تشہیر کرنے کے معاملے میں عدالت سے کہا ہے کہ وہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی رقم بطور جرمانہ اور عدالتی اخراجات بھرنے کے لیے تیار ہے۔

کمپنی تین سو بائیس ملین ڈالر بطور جرمانہ ادا کرے گی جبکہ چھ سو اٹھائیس ملین ڈالر اس دوا کی تشہیر کے سلسلے میں عائد مقدمات ختم کرنے کے لیے دیے جائیں گے۔

تاہم کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقدمات نمٹانے کے لیے رقم کی ادائیگی کو اس معاملے میں کمپنی کی جانب سے کسی الزام یا جرم کی قبولیت نہیں سمجھا جا سکتا۔

مرک کے بروس کوہلک کا کہنا ہے کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ مرک نے ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے‘۔

اس دوا کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ اس کے استعمال سے دل کے دورے اور سٹروک کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے جس کے بعد سنہ دو ہزار چار میں یہ دوا مارکیٹ سے واپس لے لی گئی تھی۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق وائے اوکس پر مرک کے خلاف فوجداری کا الزام اس وقت سامنے آیا جب کمپنی نے باضابطہ منظوری کے بغیر تشہیر شروع کر دی کہ یہ دوا جوڑوں کے درد کے لیے مؤثر ہے۔

مرک سنہ دو ہزار سات میں اسی دوا سے متعلقہ مقدمات ختم کرنے کے لیے چار ارب پچاسی کروڑ ڈالر ادا کر چکی ہے۔