فٹبال کو زیادہ ’ہیڈ‘ مارنا خطرناک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فٹبال سر سے زیادہ کھیلنے سے دماغ کے پانچ حصوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے

امریکہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فٹبال زیادہ مرتبہ سر سے کھیلنے سے دماغ میں زخم آ سکتے ہیں اور اس بارے میں شواہد دماغ کے سکین کرنے سے ملے ہیں۔

فٹ بال کے بتیس کھلاڑیوں کے دماغ کے’سکین‘ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ کھلاڑی جنھوں نے فٹ بال کو سر سے زیادہ کھیلا ہے، ان میں ایسے زخم دیکھے گئے ہیں جو دماغی امراض میں مبتلا مریضوں میں ملنے والے زخموں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

امریکہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ انسٹھ سالہ برطانوی فٹ بالر جیف اسٹل کی موت کی وجہ بھی زیادہ ہیڈ کھیلنا سمجھی جاتی ہے۔ وہ برسوں برطانیہ اور وسٹ بروموچ آلبیون کے لیے فٹبال کھیلنے کے بعد دماغی بیماریوں میں مبتلا رہے اور سن دو ہزار دو میں انتقال کر گئے تھے۔

اگرچہ اب فٹ بال کا وزن ماضی کی نسبت کافی کم ہوتا ہے لیکن البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن کے محقق ڈاکٹر مائکل لپٹن کا ماننا ہے کہ پھر بھی وہ ایک چوٹ لگا سکتے ہیں۔

تفریحی کھیل کے دوران فٹ بال کی رفتار چونتیس میل فی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے جبکہ بڑے میچز میں یہ رفتار اس سے دوگنی بھی ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر لپٹن کی ٹیم بار بار سر سے بال کو کھیلنے کے اثرات پر تحقیق کر رہی ہے جس کے لیے انھوں نے ’ڈفیوژن ٹینسور امیجنگ‘ نامی نئی طرز کے دماغ کے سکینز کا استعمال کیا ہے۔

کھلاڑیوں سے پوچھا گیا کہ وہ اوسطً کتنی بار ’ہیڈ‘ کھیلتے ہیں جس سے ظاہر ہوا کہ بار بار سر سے کھیلنے والے کھلاڑیوں کے سکینز میں دماغی چوٹوں کے شواہد زیادہ پائے جاتے ہیں۔

زیادہ ہیڈ مارنے سے دماغ کے پانچ حصوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے جہاں سے توجہ کی قابلیت، یاداشت اور دوسرے عوامل پر اثر پڑھ سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ زخم وقت کے ساتھ بڑھتے ہیں۔

ڈاکٹر لپٹن نے اپنی تحقیق کے نتائج ’ریڈیولوجیکل سوسائٹی اوف نارتھ امریکہ‘ کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے۔

ان کا کہنا تھا ’ فٹبال کو سر سے کھیلنے کی چوٹ اس قدر شدید نہیں ہو سکتی کہ دماغ کی نروو فائیبرز کو توڑ دے مگر بار بار سر سے کھیلنے سے دماغی خلیوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ چوٹیں اُنہی کھلاڑیوں کے سروں میں نظر آئیں جو سال میں ایک ہزار سے زیادہ دفعہ ’ہیڈ‘ کھیلتے ہیں۔ بعد میں انہیں کھلاڑیوں نے ذہنی قابلیت کے امتحان پر بھی کم نمبر لیے۔

ڈاکٹر لپٹن نے مزید کہا کہ ان نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر اینڈریو رڈرفورڈ جو کہ کئی سال سے سر سے فٹبال کھیلنے کے ممکنہ نقصانات پر تحقیق کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک قائل کر دینے والے شواہد نہیں ملے۔ اُن کے خیال میں محققین کو کھیل کے دوران آپس میں سر ٹکرانے کے نقصانات پر غور کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں