موسمی تبدیلی کے اثرات پر کارروائی کا مطالبہ

ڈربن احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مظاہرین امریکہ اور کینڈا سمیت امیر ممالک کے موقف پر برہم ہیں

جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ہزاروں افراد نے موسمی تغیر کے اثرات پر فوری ایکشن کے مطالبے کے حق میں مارچ کیا۔

واضح رہے کہ موسمی تغیر کے تناظر میں اقوامِ متحدہ کا سالانہ سربراہی اجلاس ڈربن کے کنونشن سینٹر میں منقعد کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین امریکہ اور کینیڈا سمیت امیر ممالک کے موقف پر برہم ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ کے سابق نائب وزیرِ اعظم لارڈ پریسکاٹ نے لندن میں ایک بیان میں کہا ہے کہ امیر ممالک کا موسمی تبدیلیوں کی بابت موقف بہت ہی ہولناک ہے۔

واضح رہے کہ لارڈ پریسکاٹ نے چودہ برس پہلے کیوٹو میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے سربراہی اجلاس میں موسمی تغیر کے اصل مسودے کو سربراہی اجلاس میں شامل کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان ممالک کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا جو موسمی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کو روکنے کے لیے کی جانے والی کارروائی پرسست رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’کیوٹو مسودے پر سنہ دو ہزار پندرہ تک ایک بار پھر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اگر کیوٹو ٹو سے پہلے ہم یہ نہیں کرتے ہیں تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے اور بعض امیر ممالک یہی چاہتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ غریب ممالک کے خلاف ایک سازش ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ بعض امیر ممالک اپنی ذمہ داری کو پہچان نہیں رہے ہیں۔‘

دوسری جانب یورپی یونین ایک نئے عالمی معاہدے پر جلد سے جلد بات کرنا چاہتی ہے۔

اس عالمی معاہدے کو سب ہی غریب ممالک اور ان جزیروں کی حمایت حاصل ہے جو سمندر کی سطح میں اضافے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ بلیک کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک مان بھی جاتے ہیں اور اس سمت کارروائی کرتے ہیں تو یہ کہنا مشکل ہے کہ سنہ دو ہزار بیس تک کوئی ایسا معاہدہ ہو سکے گا جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کیا جاسکے۔

اسی بارے میں